افغانوں کے خلاف آپریشن سے تجارت متاثر

ہر سال گرمیوں میں افغان اپنے وطن جاتے تھے لیکن اس سال کم ہی لوگ جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہر سال گرمیوں میں افغان اپنے وطن جاتے تھے لیکن اس سال کم ہی لوگ جا رہے ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاک افغان سرحد پر سفری دستاویزات یعنی پاسپورٹ اور ویزا لازمی قرار دیے جانے اور خیبر پختونخوا میں افغان پناہ گزینوں کے خلاف آپریشن سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

اس سال گرمیوں میں بہت کم تعداد میں افغان شہری اپنے وطن جا رہے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزین یا تو خود واپس چلے گئے ہیں اور یا انھیں گرفتار کر کے واپس افغانستان بھیج دیا گیا ہے۔

* <link type="page"><caption> افغان پناہ گزینوں کو وطن واپسی کا حکم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/03/160318_kuram_agency_atk.shtml" platform="highweb"/></link>

محمد عارف افغان نوجوان ہیں اور پشاور کے حیات آباد کے علاقے میں تندور پر کام کرتے ہیں۔ محمد عارف نے بتایا کہ ان کی والدہ افغانستان جانا چاہتی ہیں لیکن اس الجھن میں ہیں کہ کیا وہ واپس پشاور آ سکیں گی۔

پاکستان حکومت کی اس پالیسی سے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین متاثر ہوں گے کیونکہ پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں سے ہر سال گرمیوں میں افغان پناہ گزین افغانستان چلے جاتے ہیں اور موسم جب سرد ہونے لگتا ہے تو واپاس آ کر اپنا کاروبار کرتے ہیں۔

خان ولی افغان دکاندار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں سے جانا مشکل نہیں ہے لیکن واپس آنا اب انھیں بہت مشکل نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے اگر پاکستان کا ویزا حاصل کیا جائے تو اس کے لیے دس ہزار روپے دینا پڑیں گے اور غریب لوگ اتنی رقم نہیں دے سکیں گے۔

’اگر پاکستان کا ویزہ حاصل کیا جائے تو اس کے لیے انھیں دس ہزار روپے دینا پڑیں گے اور غریب لوگ اتنی رقم نہیں دے سکیں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’اگر پاکستان کا ویزہ حاصل کیا جائے تو اس کے لیے انھیں دس ہزار روپے دینا پڑیں گے اور غریب لوگ اتنی رقم نہیں دے سکیں گے‘

حیات آباد میں جائیداد کے کام سے وابستہ مقامی شہری مومن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان پناہ گزینوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے ان کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیشتر افغان پناہ گزینوں کے مرد خلیجی اور یورپی ممالک میں کام کرتے ہیں اور وہ زر مبادلہ کی شکل میں اچھی خاصی رقم پاکستان بھیجتے ہیں، لیکن حالیہ پالیسیوں سے یہ کاروبار بہت متاثر ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صرافہ بازار ہو یا دیگر تجارتی مراکز، ہر جگہ افغان پریشان ہیں جس سے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔

محمد فہیم خان تجارت سے وابستہ ہیں اور ان کا تعلق پشاور سے ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بیشتر مالدار افغان شہریوں نے یہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے لیکن موجودہ حالات میں افغان شہری اپنی سرمایہ کاری کم کر رہے ہیں۔

فہییم خان نے بتایا کہ جب سے افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہوئی ہیں، ان کے سروں پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے، جس کی وجہ سے افغان کہیں بھی بڑی سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔ اس سے یہاں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہونے کے بعد افغان کہیں بھی بڑی سرمایہ کاری نہیں کر رہے جس سے یہاں بے روزگاری بڑھ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC

،تصویر کا کیپشنافغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہونے کے بعد افغان کہیں بھی بڑی سرمایہ کاری نہیں کر رہے جس سے یہاں بے روزگاری بڑھ رہی ہے

اطلاعات کے مطابق صوبے میں جاری سٹرائیک اینڈ سرچ آپریشن کے ذریعے شہری علاقوں میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو ان کے کیمپوں میں واپس بھیجا جائے گا اور اس کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آرمی پبلک سکول اور اس کے بعد چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملوں میں ملوث افراد کے رابطے یا تو افغانستان سے تھے یا وہ افغانستان سے حملوں کے لیے آئے تھے۔

ان دو واقعات کے بعد صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جائے کیونکہ ان کی موجودگی سے صوبے میں امن و امان کی صورت حال تشویش ناک ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحد پر سفری دستاویزات کی شرط کے باوجود ایسے خفیہ راستے اب بھی ہیں جہاں سے لوگ دونوں ممالک میں آسانی سے آ جا سکتے ہیں۔