بنوں:سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ

بکاخیل پناہ گزین کیمپ کے متاثرین نے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دو آئی ڈی پیز کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد احتجاجًا کیمپ خالی کرانے کا فیصلہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبکاخیل پناہ گزین کیمپ کے متاثرین نے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دو آئی ڈی پیز کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد احتجاجًا کیمپ خالی کرانے کا فیصلہ کیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر بنوں میں اتوار کو شمالی وزیرستان کے متاثرین کیمپ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دو پناہ گزینوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کی نماز جنازہ بکاخیل پناہ گزین کیمپ میں سخت سکیورٹی میں ادا کی گئی جس میں مقامی حکام اور شمالی وزیرستان کے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ مرنے والے افراد کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں ہیں جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔

ادھر بکاخیل پناہ گزین کیمپ کے متاثرین نے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دو افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بعد احتجاجًا کیمپ خالی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیر کو بکاخیل کیمپ میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کا ایک بڑا جرگہ منعقد ہوا جس میں متاثرین کے مشران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جرگے میں تمام پناہ گزین نے متفقہ طور پر کیمپ خالی کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم دوسری طرف حکومت اور شمالی وزیرستان کے قبائلی عمائدین کی جانب سے متاثرین کو کیمپ خالی نہ کرانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

شمالی وزیرستان کے ایک قبائلی مشر ملک گل صالح جان نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ پناہ گزین پہلے ہی سے کیمپ میں پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کے فقدان کی وجہ سے حکومت اور سکیورٹی فورسز کے رویے سے خوش نہیں تھے۔