ایدھی کا انتقال: ایک روزہ سوگ، جنازہ سرکاری سطح پر ہو گا

پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کراچی میں انتقال کر گئے ہیں اور ان کی وفات پر حکومت نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

عبدالستار ایدھی کی عمر 88 برس تھی اور وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔

عبدالستار ایدھی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے گا اور اُن کی نمازِ جنازہ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں سنیچر کی دوپہر ادا کی جائے گی۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے عبدالستار ایدھی کے انتقال پر ملک بھر میں ایک دن جبکہ حکومتِ سندھ نے تین دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا ہے اور اس موقعے پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

حکومتِ پاکستان نے انھیں بعد از مرگ نشانِ امتیاز دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

عبدالستار ایدھی ڈائلیسز کے لیے سندھ انسٹیٹوٹ آف یورولوجی میں زیرِ علاج رہتے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔

ایس آئی یو ٹی کے ڈاکٹر مرلی دھرن نے بی بی سی اردو کے ذیشان حیدر سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ عبدالستار ایدھی کا انتقال جمعے کی شب 11 بجے ہوا اور اس موقعے پر ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی اور دیگر اہلِ خانہ وہیں موجود تھے۔

عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے اپنے والد کے انتقال کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ایدھی کی وصیت کے مطابق ان کی آنکھیں عطیہ کر دی گئی ہیں۔

عبدالستار ایدھی کو جمعے کی صبح ڈائلیسز کے دوران سانس اکھڑنے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

عبدالستار ایدھی نے 1951 میں کراچی میں ایک ڈسپینسری سے سماجی خدمت کا آغاز کیا تھا

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشنعبدالستار ایدھی نے 1951 میں کراچی میں ایک ڈسپینسری سے سماجی خدمت کا آغاز کیا تھا

جمعے کی دوپہر بلقیس ایدھی اور فیصل ایدھی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں عبدالستار ایدھی کی حالت بگڑنے کی تصدیق کی تھی اور عوام سے ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی تھی۔

اس موقعے پر فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ اُن کے والد کے گردے ناکارہ ہوگئے ہیں اور عمر زیادہ ہونے کے سبب گردے تبدیل بھی نہیں کیے جا سکتے۔

عبدالستار ایدھی نے 1951 میں کراچی میں ایک ڈسپینسری سے سماجی خدمت کا آغاز کیا تھا اور اب چاروں صوبوں میں ان کی ایمبولینس سروس، لاوارث بچوں اور بزرگ افراد کے لیے مراکز اور منشیات کے عادی لوگوں کی بحالی کے مراکز قائم ہیں۔