عبدالستار ایدھی کی زندگی تصاویر میں

پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔

پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEDHI FOUNDATION

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔
ان کی عمر 88 برس تھی اور وہ سنہ 2013 سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی میں ان کا علاج ہو رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنان کی عمر 88 برس تھی اور وہ سنہ 2013 سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی میں ان کا علاج ہو رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEDHI FOUNDATION

ایدھی 1928 میں بھارتی ریاست گجرات کے علاقے جوناگڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 11 سال کے تھے کہ ان کی والدہ کو فالج ہو گیا جس سے ان کا دماغ بھی متاثر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنایدھی 1928 میں بھارتی ریاست گجرات کے علاقے جوناگڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 11 سال کے تھے کہ ان کی والدہ کو فالج ہو گیا جس سے ان کا دماغ بھی متاثر ہوا۔
کمسن ایدھی نے اپنے آپ کو والدہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ان کو نہلانا، کپڑے بدلوانا، کھانا پلانا، یہ ایدھی نے اپنے ذمے لے لیا، جس نے آگے چل کر انھیں فلاحی کاموں کی جانب راغب کیا۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنکمسن ایدھی نے اپنے آپ کو والدہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ان کو نہلانا، کپڑے بدلوانا، کھانا پلانا، یہ ایدھی نے اپنے ذمے لے لیا، جس نے آگے چل کر انھیں فلاحی کاموں کی جانب راغب کیا۔
ایدھی نے رسمی تعلیم تو ہائی سکول تک بھی حاصل نہیں کی، تاہم وہ کہتے تھے کہ ’دنیا کے غم میرے استاد اور دانائی و حکمت کا ذریعہ ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنایدھی نے رسمی تعلیم تو ہائی سکول تک بھی حاصل نہیں کی، تاہم وہ کہتے تھے کہ ’دنیا کے غم میرے استاد اور دانائی و حکمت کا ذریعہ ہیں۔‘
والدہ کی وفات کے بعد انھوں نے لوگوں کی مدد کے لیے رابطے کا ذریعہ بنانے کے بارے میں سوچا۔ ان کا خواب تھا کہ ضرورت مندوں کے لیے فلاحی مراکز اور ہسپتال قائم کیے جائیں۔ یہ کام بہت بڑا تھا اور ایدھی کی عمر کم اور وسائل ناپید۔ لیکن ایدھی کو یہ کرنا تھا، چاہے اس کے لیے لوگوں سے بھیک تک کیوں نہ مانگنا پڑتی۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنوالدہ کی وفات کے بعد انھوں نے لوگوں کی مدد کے لیے رابطے کا ذریعہ بنانے کے بارے میں سوچا۔ ان کا خواب تھا کہ ضرورت مندوں کے لیے فلاحی مراکز اور ہسپتال قائم کیے جائیں۔ یہ کام بہت بڑا تھا اور ایدھی کی عمر کم اور وسائل ناپید۔ لیکن ایدھی کو یہ کرنا تھا، چاہے اس کے لیے لوگوں سے بھیک تک کیوں نہ مانگنا پڑتی۔
جب پاکستان بنا تو وہ چھٹے دن ہی یہاں آ گئے۔ اول اول انھوں نے ٹھیلے اور پھیری لگا کر کام شروع کیا پھر کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں کپڑوں کے ایجنٹ بن گئے۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنجب پاکستان بنا تو وہ چھٹے دن ہی یہاں آ گئے۔ اول اول انھوں نے ٹھیلے اور پھیری لگا کر کام شروع کیا پھر کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں کپڑوں کے ایجنٹ بن گئے۔
چند سال بعد انھوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور 20 سال کی عمر میں اپنی میمن برادری کے افراد کی مدد سے مفت طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک ڈسپنسری قائم کی۔ یہی سوچ انھیں ایدھی ٹرسٹ قیام کی جانب لے گئی۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنچند سال بعد انھوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور 20 سال کی عمر میں اپنی میمن برادری کے افراد کی مدد سے مفت طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک ڈسپنسری قائم کی۔ یہی سوچ انھیں ایدھی ٹرسٹ قیام کی جانب لے گئی۔
ان کے ایک دوست حاجی غنی عثمان صاحب نے اس کام میں ان کی مدد کی۔ ان سے ملنے والے پیسوں سے انھوں نے دو ہزار کی ایک گاڑی لی، ایک ڈسپنسری بنائی، اور ایک خیمے کے اندر چار بستروں کا ہسپتال قائم کیا۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنان کے ایک دوست حاجی غنی عثمان صاحب نے اس کام میں ان کی مدد کی۔ ان سے ملنے والے پیسوں سے انھوں نے دو ہزار کی ایک گاڑی لی، ایک ڈسپنسری بنائی، اور ایک خیمے کے اندر چار بستروں کا ہسپتال قائم کیا۔
ایدھی نے ڈرائیونگ سیکھ کر اس گاڑی کو ایمبولینس بنا دیا۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے زندگی میں کبھی کوئی اور گاڑی نہیں چلائی، 48 سال تک صرف ایمبولینس چلائی۔‘

،تصویر کا ذریعہEDHI FOUNDATION

،تصویر کا کیپشنایدھی نے ڈرائیونگ سیکھ کر اس گاڑی کو ایمبولینس بنا دیا۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے زندگی میں کبھی کوئی اور گاڑی نہیں چلائی، 48 سال تک صرف ایمبولینس چلائی۔‘
عبدالستار ایدھی کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ ان کے پاس ملیشیا کے سستے ترین کپڑے کے صرف دو جوڑے کپڑے تھے، ایک میلا ہو جاتا تو وہ دوسرا پہن لیتے۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنعبدالستار ایدھی کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ ان کے پاس ملیشیا کے سستے ترین کپڑے کے صرف دو جوڑے کپڑے تھے، ایک میلا ہو جاتا تو وہ دوسرا پہن لیتے۔
وہ رات کو شادیوں پر جا کر برتن دھوتے تھے، دودھ بیچتے تھے، اخبار فروخت کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے یہ کہہ کر اپنی خدمات سب کے لیے وقف کر دیں کہ ’میمن کا کام نہ کرو، تمام انسانیت کا کام کرو۔‘

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنوہ رات کو شادیوں پر جا کر برتن دھوتے تھے، دودھ بیچتے تھے، اخبار فروخت کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے یہ کہہ کر اپنی خدمات سب کے لیے وقف کر دیں کہ ’میمن کا کام نہ کرو، تمام انسانیت کا کام کرو۔‘
ایدھی اپنی ایمبولینس میں دن بھر شہر کا چکر لگاتے رہتے اور جب بھی کسی ضرورت مند یا زخمی شخص کو دیکھتے، اسے فوراً امدادی مرکز لے جاتے۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنایدھی اپنی ایمبولینس میں دن بھر شہر کا چکر لگاتے رہتے اور جب بھی کسی ضرورت مند یا زخمی شخص کو دیکھتے، اسے فوراً امدادی مرکز لے جاتے۔
ایدھی کے مطابق پہلی عوامی اپیل پر دو لاکھ چندہ اکٹھا ہوا۔ وہ کہتے تھے کہ ’یہ میری نیت نہیں تھی کہ میں کسی کے پاس جا کر مانگوں، بلکہ میں چاہتا تھا کہ قوم کو دینے والا بناؤں، پھر میں نے فٹ پاتھوں پر کھڑا رہ کر بھیک مانگی، تھوڑی ملی، لیکن ٹھیک ملی۔‘جلد ہی لوگ بقول شاعر لوگ آتے گئے اور کاروان بنتا گیا۔

،تصویر کا ذریعہEdhi

،تصویر کا کیپشنایدھی کے مطابق پہلی عوامی اپیل پر دو لاکھ چندہ اکٹھا ہوا۔ وہ کہتے تھے کہ ’یہ میری نیت نہیں تھی کہ میں کسی کے پاس جا کر مانگوں، بلکہ میں چاہتا تھا کہ قوم کو دینے والا بناؤں، پھر میں نے فٹ پاتھوں پر کھڑا رہ کر بھیک مانگی، تھوڑی ملی، لیکن ٹھیک ملی۔‘جلد ہی لوگ بقول شاعر لوگ آتے گئے اور کاروان بنتا گیا۔