’کوئی اپنا نہیں غم کے مارے ہیں ہم‘

پاکستان کے شہر کراچی میں قوال امجد صابری کی ہلاکت کی خبر ملک کے تقریباً تمام تر اخبارات کی شہ سرخی بنی ہے۔
امجد صابری کو بدھ کے روز کراچی میں لیاقت آباد کے مصروف علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیاتھا۔
٭ <link type="page"><caption> پاکستان کے معروف قوال امجد صابری کی تدفین آج ہو گی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160623_amjad_sabri_killed_update_zz" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> ’دہشت گردوں کا ایکشن پلان فل سوئنگ میں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160622_amjad_sabri_sm_reaction_tim" platform="highweb"/></link>
جمعرات کو ملک بھر میں شائع ہونے والے تمام اخبارات نے بھی اسی خبر کو شہ سرخیوں میں جگہ دی اور امجد صابری کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس کے ساتھ ملک بلخصوص کراچی میں سکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھائے۔
پاکستان ٹو ڈے نے امجد صابری کے قتل کے حوالے سے حکومت کے پشاور سکول حملے کے بعد شدت پسندوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے لکھا: ’امجد صابری ہلاک لیکن ساتھ میں نیشنل ایکشن پلان بھی؟‘
انگریزی اخبار ڈان کی شہ سرخی کچھ یوں رہی: ’قوالی کے سٹار امجد صابری کو کراچی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح ایکسپریس ٹربیون نے لکھا کہ ’قوالی کے استاد کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔‘ اخبار نے سیاسی قائدین کے حوالے سے مزید لکھا کہ ’امجد صابری کا قتل امن و امان کے لیے کھلا چیلنج ہے۔‘
اردو اخبار خبریں نے لکھا کہ ’شہنشاہ قوالی امجد صابری دہشتگرد حملے میں شہید۔‘

،تصویر کا ذریعہAmjad Sabri
نوائے وقت اخبار نے امجد صابری کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کر خبر یوں شائع کی :’صابری گھرانے کا اہم چراغ گل، کراچی میں معروف قوال امجد صابری جاں بحق۔‘
مشرق اخبار کی شہ سرخی کچھ یوں ہے: ’کراچی میں شہرہ آفاق قوال امجد صابری قاتلانہ حملے میں جاں بحق۔‘
روزنامہ ایکپریس نے بھی دیگر اخبارات کی طرح امجد صابری اور ان کی گاڑی کی تصاویر شائع کیں اور ساتھ میں لکھا: ’کراچی میں دہشت گرد پھر سرگرم معروف قوال امجد صابری قتل۔‘
روزنامہ جنگ نے امجد صابری کی ہلاکت کی خبر کچھ اس طرح شائع کی: ’امجد صابری ٹارگیٹڈ حملے میں جاں بحق۔‘
اخبار دنیا نے امجد صابری کے گائے ہوئے ایک کلام کے مصرے کو شہ سرخی کے ساتھ لکھا : ’کوئی اپنا نہیں غم کے مارے ہیں ہم۔‘
’قوال امجد صابری قتل، ملک میں سوگ۔‘
اخبار نے اپنے ٹی وی پروگرام میں اس موضوع پر ہونے والے پروگرام کی خبر دی جس کراچی میں امن کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہر میں دہشت گردوں کی نرسریاں موجود ہیں جبکہ اویس شاہ کا اغوا اور صابری کے قتل میں مماثلت نہیں۔







