’انڈین اثر و رسوخ محسوس کرنے اور حقائق میں فرق ہے‘

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے افغانستان میں انڈین اثرو رسوخ سے متعلق پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ اولسن کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسوس کرنے اور حقائق میں بڑا فرق ہے۔
رچرڈ اولسن نے بیان دیا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھے اور افغانستان میں انڈین اثرورسوخ سے متعلق پاکستان کے تحفظات ضرورت سے زائد ہیں۔
جمعرات کو ہفتہ واربریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا جنھوں نے خود تسلیم کیا کہ انڈین خفیہ ایجنسی را پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی پھیلانے میں ملوث ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ سابق امریکی وزیر دفاع جیک ہیگل بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں پاکستان میں انڈین مداخلت ہو رہی ہے اس کے علاوہ اُنھوں نے پاکستان میں بدامنی کا ذمہ دار انڈیا کو قرار دیا ہے۔
نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین ہیں اور اُن کے لیے بنائے گئے کیمپ دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد سے آمدورفت دہشت گردی کے لیے معاون ثابت ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان لاکھوں مہاجرین کی باعزت وطن واپسی عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا ایک حصہ ہے۔ اُنھوں نےاس بات کی تردید کی کہ بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں پاکستان اور افغانستان میں رابطوں کا فقدان ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ افغان طالبان کے کمانڈر ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد افغان امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے چاروں ممالک کوششیں کر رہے ہیں لیکن بظاہر ا یسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ان امن عمل کو شروع ہونے میں وقت لگے گا۔
ایک سوال کے جواب میں نفیس زکریا نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے لیکن یہ مذاکرات شرائط کے بغیر شروع ہونے چاہیے۔







