’افغان طالبان کا پاکستان سے مجبوری کا رشتہ مزید مجروح‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
افغان طالبان کے امیر ملا محمد اختر منصور کی پاکستانی سرزمین پر ہلاکت کے بعد افغانستان میں قیام امن اور مصالحتی عمل کے بارے میں امید اور کم ہو گئی ہے۔
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر اور افغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند کے مطابق افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے قائم کیے جانے والے چار ملکی گروپ میں امریکہ بھی شامل تھا اور اسی نے طالبان کے امیر کو ڈرون حملے میں ہلاک کیا ہے۔
رستم شاہ کے مطابق افغان قیادت میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اس پس منظر میں مذاکرات کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ مستقبل میں اگر افغان حکومت اور امریکہ طالبان کی اپنے قیدیوں کی رہائی سمیت دیگر بنیادی شرائط کو پہلے پورا کرتا ہے تو شاید بات چیت کا سلسلہ اسی صورت میں دوبارہ شروع ہو سکے کیونکہ طالبان کے نئے امیر ہبت اللہ سخت گیر رہنما سمجھے جاتے ہیں۔
افغان امور کے مطابق رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق پاکستان کا افغان طالبان پر اثرو رسوخ پہلے ہی محدود تھا اور اب مزید کم ہو جائے گا۔ اب امریکہ پاکستان سے کہہ سکتا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اس میں ایک رکاوٹ ملا منصور کو اس نے راستے سے ہٹا دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق انھیں امریکہ کے اس دعوے پر کہ ملا منصور مذاکرات کے حق میں نہیں تھے، یقین نہیں ہے کیونکہ مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ پوری شوریٰ کا تھا جس میں موجودہ امیر ہیبت اللہ اور ان کے نائیبن ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی بھی شامل تھے۔
’اس صورتحال میں پاکستان کا کام اور بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ پہلے بھی اثرو رسوخ محدود تھا اور اب پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ افغان طالبان کو بات چیت کے لیے کس حد تک مجبور کر سکتا ہے یا ان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے کیونکہ ان میں سے( طالبان قیادت) میں سے اکثر پاکستان میں ہی ہیں۔‘
رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق پاکستان کے لیے بڑی مشکل صورتحال ہے کیونکہ اگر افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو سب اس کے مخالف ہو جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رستم شاہ نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان طالبان کو ایک حد سے زیادہ بات چیت پر مجبور نہیں کر سکتا۔

،تصویر کا ذریعہAP
’اگر آپ کسی کو مجبور کر کے مذاکرات کے لیے آمادہ کریں تو اس کے نتائج اچھے نہیں آتے ہیں۔ یہ پاکستان کی پالیسی پر منحصر ہے کہ وہ افغان نفسیات کو کتنا سمجھتا ہے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے کیسے اپنی پالیسی مرتب کرتا ہے کیونکہ ماضی کی پالیسیوں کا الٹا اثر ہوا۔`‘
رستم شاہ مہمند نے اس جانب توجہ دلائی کہ طالبان کے امیر پاکستانی سرزمین پر ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات بھی ہوں گے جس میں اب دیکھنا ہے کہ پاکستان اس صورتحال سے کیسے نمٹتا ہے۔
افغانستان کے سینیئر صحافی اور ٹی وی چینل کابل نیوز کے ڈائریکٹر نیوز غلام جیلانی زواک کے مطابق’افغان طالبان کا پاکستان سے اعتماد نائن الیون کے بعد سے مجروح ہو گیا تھا اور اب دونوں کے درمیان اعتماد کے بجائے مجبوری کا رشتہ ہے جس میں طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام پاکستان میں ہے جبکہ پاکستان انھیں دفاعی مقاصد کے لیے سٹریٹیجک اثاثہ سجھتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAIP
انھوں نے کہا کہ’پاکستان میں ملا عمر کی مبینہ طبی موت پر سوالات تھے، اب ملا منصور کی ہلاکت کے بعد یہ اعتماد مزید مجروح ہو گا کیونکہ یہاں نہ صرف افغان طالبان بلکہ دیگر حلقوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ملا منصور طالبان دھڑوں کو متحد نہیں کر سکے اس وجہ سے اس نے امریکہ سے مل کر اسے ختم کر دیا۔‘
بات چیت کے سوال پر غلام جیلانی زواک نے کہا کہ طالبان کے کسی بھی نئے امیر کے لیے شروع میں ہی امن بات چیت کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ دہائیوں سے طالبان جنگجوؤں کو’جہاد‘ کی ترغیب دے کر انتہا کے شدت پسند واقعات میں ملوث کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نئی قیادت کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ صلح کی بات کریں۔ اس وجہ سے اب ایک عرصے تک بات چیت ہونا مشکل ہے۔‘
اس پر رستم شاہ نے کہا کہ پاکستان کو افغان حکومت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ’بعض اوقات ہم ایسی حرکتیں کرتے ہیں جس کا الٹا نقصان ہوتا ہے اور اگر معاملے کو معمول کے مطابق اگلے بڑھنے دیا جائے تو یہ پاکستان کے لیے اور خطے میں دیر پا امن کے لیے فائدہ مند ہو گی۔‘







