عمران خان کہاں ہیں؟ اسلام آباد کی پولیس ’لاعلم‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو اور دیگر پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کو بتایا ہے کہ اُنھیں معلوم ہی نہیں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہاں ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر اُنھیں معلوم ہو جائے تو وہ ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں۔
٭ <link type="page"><caption> عمران خان اور طاہرالقادری کے وارنٹ گرفتاری جاری</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160531_qadri_imran_khan_warrants_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری پولیس اہلکاروں پر تشدد کے مقدمے میں نامزد ملزم ہیں اور عدالت نے ان دونوں ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
عدالت نے پولیس کو ان دونوں جماعتوں کے سربراہوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو تھانہ سیکرٹریٹ کے ایڈشنل ایس ایچ او نے ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سے متعلق تعمیلی رپورٹ پیش کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ان عدالتی احکامات کی تعمیل کے لیے ملزم عمران خان کی بنی گالہ میں واقع رہائش گاہ پر گئے اور وہاں گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ سے ملزم کے بارے میں دریافت کیا تو پولیس حکام کو بتایا گیا کہ اُنھیں نہیں معلوم عمران خان کہاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ وہ اپنے طو پر بھی معلوم کر رہے ہیں کہ ملزم عمران خان کہاں پر ہیں لیکن اس بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں مل رہی ہیں۔
عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ذریعے یہ ملزمان عوام کو نظر آتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ یہ ملزمان پولیس کو کیوں نظر نہیں آتے۔
دوسرے ملزم ڈاکٹر طاہرالقادری کی گرفتاری کے بارے میں پولیس حکام نے کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی اور پولیس حکام کا موقف ہے کہ وہ ابھی تک بیرون ملک میں ہیں جبکہ وہ گذشتہ ہفتے ہی پاکستان واپس لوٹے ہیں۔
عدالت نے ان دونوں ملزموں کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اُنھیں 20 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ بعض مصلحتوں کے تحت ملزموں کو گرفتار نہیں کیا جا رہا کیونکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ ایسا ہونے کی صورت میں ملک میں امن وامان کی صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔







