عمران خان اور طاہر القادری کے وارنٹ گرفتاری جاری

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لاؤڈ سپیکر ایکٹ اور شہر میں نافذ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے رہنما طاہرالقادری سمیت 27 افراد کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
ان ملزمان کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور ان افراد کے وارنٹ گرفتاری علاقہ مجسٹریٹ وقاص رشید کی عدالت سے جاری کیے گئے ہیں۔
علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے موقف اختیار کیا کہ اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں متعدد بار عمران خان سمیت دیگر ملزمان سے رابطہ کیا لیکن ان میں سے کوئی بھی تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہوا۔
تفتیشی افسر کا موقف تھا کہ ملزمان کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے اس مقدمے کی تفتیش بھی نامکمل ہے لہٰذا عدالت ملزمان کو پابند بنائے کہ وہ مقدمے کی تفتیش کے لیے تھانے میں پیش ہوں۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، جس پر عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری سمیت افراد کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کر دی۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
اس مقدمے میں سنہ 2014 میں ڈی چوک پر پاکستان تحریک انصاف کے دھرنوں کے دوران ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والے ڈی جے بٹ کو گرفتار کیا تھا، تاہم اُنھوں نے اس مقدمے میں ضمانت کروا لی تھی۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم ڈی جے بٹ کے وکیل نے اپنے موکل کو اس مقدمے سے بریت کی درخواست دی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ ڈی جے بٹ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور صرف اُن کے موکل کا عبوری چالان ہی عدالت میں پیش کیا گیا ہے جبکہ اس مقدمے میں نامزد ملزمان ابھی تک تفتیش کے لیے تھانے میں پیش نہیں ہوئے۔
سنہ 2014 میں دھرنوں کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین طاہر القادری کے خلاف اسلام آباد میں سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملہ کرنے اور وزیراعظم ہاؤس پر دھاوا بولنے کے علاوہ متعدد افراد کو پولیس کی حراست سے چھڑانے کے مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات میں دونوں جماعتوں کے مذکورہ رہنما پولیس یا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







