تحریکِ انصاف کی اسمبلی میں واپسی عدالت میں چیلنج

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے سے متعلق درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ آٹھ اپریل سے اس درخواست کی سماعت کرے گی۔
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق سینیٹر سید ظفر علی شاہ نے یہ درخواست دائر کی ہے۔
اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کےمتعدد اراکین قومی اسمبلی نے اپنے استعفے قومی اسمبلی کے سپیکر کو پیش کردیے تھے لیکن اس کے بعد وہ دوبارہ قومی اسمبلی میں چلے گئے ہیں لہذا عدالت قومی اسمبلی کے سپیکر کو حکم جاری کرے کہ وہ ان ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کریں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی صورت حال میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حکام کو بھی یہ حکم دیا جائے کہ وہ مستعفیٰ ہونے والے ان ارکان کی تنخواہیں اور دیگر مراعات کو روکیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عالیہ الیکشن کمیشن کو حکم دے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کی وجہ سے خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے جائیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر اعتراضات لگائے تھے اور کہا تھا کہ اس حوالے سے مناسب فورم موجود ہیں اگر وہاں سے دادرسی نہیں ہوتی تو پھر عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس درخواست کو اعتراضات کے ساتھ سماعت کے لیے منظور کیا جائے اور وہ سماعت کے دوران دلائل کے ذریعے ان اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یمن کی صورت حال پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت دیگر ارکان اسمبلی کی شمولیت پر حکومتی بینچوں سمیت حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے بھی اُنھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ منتخب پارلیمنٹ کو جعلی پارلیمنٹ کہنے والے اب کس منہ سے ایوان میں بیٹھے ہیں۔
یاد رہے کہ اس درخواست کی سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ کے سربراہ اطہر من اللہ ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کروانے کا الزام افتخار محمد چوہدری پر عائد کیا تھا۔ جس کے خلاف پاکستان کے سابق چیف جسٹس نے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں عمران خان پر ہتکِ عزت کا دعوی دائر کر رکھا ہے۔







