ڈی جے بٹ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

 عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے تین ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے
،تصویر کا کیپشن عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے تین ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے گذشتہ برس پارلیمان کے سامنے دھرنے کے دوران موسیقار کی خدمات دینے والے ڈی جے بٹ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

ملزم کے ناقابِل ضمانت وارنٹ گرفتاری ان کی مقدمے میں عدم حاضری کی بنا پر جاری کیے گئے ہیں۔

عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے تین ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

گذشتہ برس اگست میں پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران مقامی پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور لاؤڈسپیکر استعمال کرنے پر ڈی جے بٹ اور اُن کے دو ساتھیوں کو اُس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ ایک مارکیٹ میں ناشتہ کر رہے تھے۔

مقامی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزم ڈی جے بٹ کو عدالت میں پیش ہونے سے متعلق متعدد نوٹس جاری کیے تاہم اس کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران ملزم ڈی جے بٹ میڈیا پر مشہور ہوگئے تھے۔ اس دھرنے کے اختتام پر میڈیا میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ اس دھرنے کی انتظامیہ ڈی جے بٹ کے دس کروڑ روپے سے زائد کی نادہندہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی جے بٹ بہت زیادہ رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ان کے بقول یہ معاملہ 50 لاکھ روپے میں طے پایا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ڈی جے بٹ کے ساتھ پیسوں کا تنازع حل کرنے کے بعد مستقبل میں پارٹی کے جلسوں میں ان کی خدمات لینے سے معذرت کر لی تھی۔