’انصاف نہ ملا تو کسی بھی وقت دھرنے کی کال دی جاسکتی ہے‘

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کی جانب سے ماڈل ٹاون واقعے میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 14کارکنوں کی دوسری برسی کے موقع پر دیے جانے والے احتجاجی دھرنے کا اختتام ہوگیا۔
سنیچر کی صبح ختم ہونے والے اس احتجاجی دھرنے کا آغاز جمعے کی شام لاہور کے مال روڈ پر ہوا تھا جس میں مرد و خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
٭<link type="page"><caption> آرمی چیف فوجی عدالت سے انصاف دلوائیں: طاہر القادری</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160618_tahir_ulqadri_address_dharna_sr" platform="highweb"/></link>
ڈاکٹر طاہر القادری نے سحری کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’رمضان کی وجہ سے دھرنا ختم نہیں بلکہ ملتوی کررہے ہیں جب کہ انصاف نہ ملا تو کسی وقت بھی دھرنے کی کال دی جاسکتی ہے۔‘
طاہر القادری کی جانب سے دھرنے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد دھرنے کے شرکاء پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔
دھرنے میں پاکستان پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف ، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، مجلس وحدت المسلمین، آل پاکستان مسلم لیگ کے وفود اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید نے بھی اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شرکت کی۔

احتجاجی دھرنے کے دوران خطاب کرتے ہوئے طاہرالقادری نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا کہ سانحہ ماڈل واقعے کے مقدمات کی سماعت فوجی عدالت میں کروا کر انھیں انصاف فراہم کریں۔
کارکنوں سے خطاب میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کہ کہنے پر ہی ایف آئی آر کٹی تھی اور پوری قوم کو جنرل راحیل پر اعتماد ہے اور انھیں بھی انصاف وہی دلائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ انصاف اور قصاص یعنی ’خون کا بدلے خون‘ ہے جبکہ موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے انصاف کا حصول ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسال گزر گئے کارکنوں کے قتل کے مقدمات آگے نہیں بڑھ سکے ہیں اس لیے وہ حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
طاہر القادری نے کہا کہ ’ماڈل ٹاؤن واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کو دیت کے نام پر کروڑوں روپے دینے اور بیرون ملک ملازمتوں کی پیشکش کی گئی لیکن نہ تو حکمرانوں کا جبر اور ظلم انھیں جھکا سکا اور نہ دولت و زر ان کے اعتماد کو متزلزل کرسکا، ہم اب قانون کی جنگ لڑتے رہیں گے کوئی سودا نہیں کریں گے۔‘







