پناہ گزینوں اور میزبانوں کی سانجھی زندگی

حکومت کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے متاثرین کے لیے کوئی کیمپ نہیں لگایا گیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنحکومت کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے متاثرین کے لیے کوئی کیمپ نہیں لگایا گیا
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان

ڈیرہ اسماعیل خان میں درابن روڈ پر ایک مکان میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد رہائش پذیر ہیں۔

یہاں کے مکینوں میں قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ انھیں پناہ دینے والے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

٭ <link type="page"><caption> شدت پسندی اور فوجی آپریشن سے تعلیم متاثر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160616_zarb_azb_special_eduction_impact_sr" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’طالبان کے ڈر کا خاتمہ ضربِ عضب کی سب سے بڑی کامیابی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160615_zarb_azb_special_qadir_baloch_zs" platform="highweb"/></link>

اس مکان میں ایک خاندان نے دوسرے کو مجبوری کے عالم میں پناہ دی اور پھر ساتھ رہنے لگے۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں متعدد ایسے مکانات ہیں جہاں پہلے سے آباد رشتہ دار اور دوست میزبان جبکہ نقل مکانی کرنے والے متاثرین مہمان ہیں اور یہ رشتہ سات سالوں سے قائم ہے۔

وحید اللہ نے جب جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کی تو انھیں ایک رشتہ دار نے پناہ دی اور اب ان کی زندگی سانجھی ہے۔

55 سالہ وحید اللہ کہتے ہیں ان سات سالوں میں انھوں نے بہت مشکل حالات دیکھے ہیں اور اپنے وطن اور اپنے گھر جیسی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔

اس مکان میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد رہائش پذیر ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناس مکان میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد رہائش پذیر ہیں

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں اپنے رشتہ دار کے ساتھ رہتے ہیں، انھیں حکومت کی جانب سے امداد بھی ملتی ہے اور وہ خود مزدوری بھی کرتے ہیں لیکن یہ ان کا اپنا وطن نہیں ہے۔

ان کے مطابق اگر انھیں رات کے وقت بھی کہا جائے کہ وہ اپنے وطن چلے جائیں تو شاید وہ اسی وقت روانہ ہو جائیں گے۔

وحیداللہ نے بتایا کہ وہ پہلے ایک رشتہ دار کے ہاں کچھ عرصہ رہے اور پھر چچا زاد بھائی کے ساتھ یہاں درابن روڈ پر رہنے لگے۔

ان کے میزبان مہتاب کا کہنا ہے کہ بس مل کر گزارہ کر رہے ہیں اور محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’گھر میں بچے لڑتے بھی ہیں اور پھر خود ایک دوسرے کو منا لیتے ہیں بڑے اس معاملے میں نہیں بولتے۔‘

قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے بیشتر نوجوان تعلیم چھوڑ کر مزدوری پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن راہ نجات کو سات سال ہو چکے لیکن اب تک صرف 32 فیصد متاثرین ہی واپس اپنے علاقوں کو جا سکے ہیں۔

ایک خاندان نے دوسرے کو مجبوری کے عالم میں پناہ دی اور مشترکہ طور پر رہنے لگے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنایک خاندان نے دوسرے کو مجبوری کے عالم میں پناہ دی اور مشترکہ طور پر رہنے لگے

جنوبی وزیرستان ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل افسر محمد شعیب نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرین کی واپسی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور رواں سال کے آخر تک تمام قبائلی علاقوں کے متاثرین واپس اپنے علاقوں کو چلے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 72 ہزار رجسٹرڈ خاندانوں اور کوئی اتنی ہی تعداد میں غیر رجسٹرڈ متاثرین نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پناہ حاصل کی تھی۔

قبائلی علاقوں میں گذشتہ دس برسوں سے فوجی آپریشن جاری ہیں جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ایک نسل تعلیم سے محروم رہی اور گھر بار تباہ ہوئے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اتنی قربانیوں کے بعد کیا انھیں ایک بہتر مستقبل میسر آ سکے گا؟