ضربِ عضب: وزیرستان سے باہر کامیابی کا انتظار

،تصویر کا ذریعہISPR
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن ضرب عضب کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں اور جہاں اس کے نتیجے میں ملک بھر میں عمومی طور پر سکیورٹی کی صورتحال میں کافی حد تک بہتری آئی ہے وہیں وزیرستان سے باہر جس کامیابی کی توقع کی جا رہی تھی وہ تاحال نظر نہیں آ رہی۔
دو سال پہلے تک ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کا سب سے بڑا گڑھ سمجھے جانے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں عسکری کارروائیوں کا مرحلہ تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے۔
سنہ 2015 کے دوران زیادہ تر کارروائیاں پاک افغان سرحدی علاقوں تک محدود رکھی گئیں۔
گذشتہ سال جون میں پہلی مرتبہ دور افتادہ سرحدی علاقے دتہ خیل میں زمینی کاروائی کا آغاز کیا گیا جو کئی ماہ تک جاری رہی جبکہ آخری مرحلے میں رواں سال فروری میں دشوار گزار پہاڑی علاقے شوال میں بھی کارروائی شروع کی گئی۔
اپریل میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے آخری مرحلے میں فوج نے شوال کا 640 مربع کلومیٹر علاقہ کلیئر کرا لیا ہے اور یوں شمالی وزیرستان میں 4300 مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے میں حکومت کی عمل داری بحال کر دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
فوج کا یہ کہنا تو ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے آغاز کے بعد سے نقل مکانی کرنے والے 30 ہزار خاندان یعنی 36 فیصد پناہ گزین اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں، تاہم اس علاقے میں جو تیزی فوجی آپریشن کے دوران دکھائی گئی تھی، اتنی تیزی متاثرین کی بحالی اور تعمیرِ نو میں نظر نہیں آ رہی۔
دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) سعد محمد کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے جو عسکری اہداف مقرر کیے گئے تھے وہ تو حاصل کر لیے گئے کیونکہ اس کے باعث علاقہ دہشت گردوں سے صاف کر دیا گیا ہے، لیکن دیگر مقاصد میں ابھی تک کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ آپریشن کا ایک اہم پہلو متاثرین کی باعزت اپنے علاقوں کو واپسی ہے لیکن اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی جس سے اس آپریشن کو مکمل کامیاب آپریشن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے بقول ’وزیرستان میں جو فوجی کامیابی ملی ہے وہ اس وقت تک عارضی ہے جب تک فوج اور حکومت دیگر اقدامات نہیں کرتی، جس میں متاثرین کی باعزت واپسی، سول اداروں اور انتظامیہ کی بحالی اور تعمیر نو وغیرہ کا عمل شامل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
ان کے مطابق اس آپریشن کے آخری مراحل پر افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں بہتری لانے پر بھی غور کیا جانا ضروری ہے کیونکہ شدت پسندوں کی اعلیٰ قیادت نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے۔
شمالی وزیرستان سے آپریشن کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے تقریباً دس لاکھ متاثرین کی اکثریت اپنے اپنے علاقوں کو واپس لوٹ چکی ہے، تاہم تقریباً 30 فیصد کے قریب متاثرین اب بھی بےگھر ہیں اور بنوں اور آس پاس کے علاقوں میں پناہ گزین کیمپوں یا کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔
ابتدا میں متاثرین کی واپسی کا عمل انتہائی سست روی کا شکار تھا اور اس میں بار بار تاخیر بھی ہوتی رہی، تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔
شمالی وزیرستان کے سینیئر صحافی احسان داوڑ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی وہاں مکمل امن و امان کا قیام ہے۔
ان کے مطابق شمالی وزیرستان میں سکیورٹی چیک پوسٹوں پر پہلے کے مقابلے میں سختیاں کم کر دی گئی ہیں جس سے مقامی باشندوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب ایجنسی میں داخلے کے لیے وطن کارڈ کی شرط ہے جبکہ اس سے پہلے خصوصی اجازت نامہ لازمی قرار دیا گیا تھا۔
احسان داوڑ نے کہا کہ ’ایجنسی بھر میں حکومت کی عمل داری بحال ہو چکی ہے ، علاقہ اسلحے سے پاک کر دیا گیا ہے اور لوگوں میں بھی اب کوئی خوف نہیں رہا لیکن دوسری طرف بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیر نو کے عمل میں حکومت کی طرف سے تیزی نظر نہیں آ رہی۔‘
انھوں نے کہا کہ آپریشن کی وجہ سے شمالی وزیرستان کے علاقوں میر علی اور میران شاہ میں 19 ہزار کے قریب دکانوں کو تباہ کیا گیا تھا لیکن اب تک ان میں چند سو کے قریب ہی دوبارہ تعمیر کی جا سکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسی طرح مختلف علاقوں میں مکانات، تعلیمی ادارے اور بنیادی صحت کے مراکز بدستور تباہ شدہ حالت میں موجود ہیں جس پر دو برسوں کے دوران کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔
تاہم انھوں نے یہ بھی بتایا کہ علاقے میں سڑکوں کی بحالی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور ہر علاقے میں کشادہ شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شمالی وزیرستان میں کامیاب کارروائیوں کے بعد آپریشن ضرب عضب کا دائرہ ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے تاہم اب تک قبائلی علاقہ جات سے باہر اس آپریشن کو وہ کامیابی نہیں مل سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
کراچی میں ضرب عضب کے تحت آپریشن کسی حد کامیاب رہے کیونکہ وہاں رینجرز کی طرف سے خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرچ اینڈ سٹرائیک کارروائیوں کی وجہ سے تشدد کے واقعات میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم پنجاب میں اس آپریشن کے نتیجے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی۔
پنجاب میں پولیس کی طرف سے ایک جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کارروائی کے سوا فوج کو ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا۔
شدت پسندی پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی اور مصنف عقیل یوسف زئی کا کہنا ہے کہ ’شدت پسندوں کے بڑے بڑے گروپ پنجاب میں موجود ہیں لیکن وہاں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
ایک اور سوال کے جواب میں عقیل یوسف زئی نے کہا کہ ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کروانے کےلیے ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی کو بھی دوبارہ ترتیب دیا جائے اور خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ بیٹھ کر انھیں اعتماد میں لیا جائے تاکہ ملک میں امن قائم کرنے میں مدد مل سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں کامیاب کارروائیوں کے باوجود شدت پسندوں کی اعلیٰ قیادت بدستور محفوظ ہے اور ان میں بیشتر کمانڈر سرحد پار پناہ لیے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب تک شدت پسندوں کی قیادت موجود رہےگی وہ مسلسل ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی بنی رہے گی کیونکہ عسکریت پسندوں کو جب بھی موقع ملا، انھوں نے حملہ کرنے کوشش کی ہے۔







