پشاور میں مختلف تنظیموں کے احتجاجی مظاہرے

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
آئندہ مالی سال کے بجٹ سے پہلے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اپنے حقوق کے لیے مختلف تنظیموں کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم ہیں جبکہ نرسوں اور ٹرانسپورٹرز نے نعرے بازی کے ساتھ روڈ بلاک کیے۔
صوبائی ایڈ ہاک لیکچررز کے کیمپ میں دو درجن سے زیادہ مرد اور خواتین اساتذہ روزانہ صبح سے شام تک بیٹھے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ گذشتہ 24 روز سے جاری ہے۔ان اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ انھیں مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جائے۔
ان لیکچررز کو سال 2011 میں ایڈہاک یعنی عارضی بنیادوں پر تعینات کیا گیا تھا اور ہر سال ان کی تعیناتی میں توسیع کر دی جاتی تھی۔
ان میں بیشتر اساتذہ قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی کے علاوہ نیم قبائلی علاقوں میں تعینات ہیں۔
اسی طرح قبائلی علاقوں میں بچوں کو مختلف امراض سے بچاؤ کے قطرے دینے والے محکمہ صحت فاٹا سیکریٹیریٹ کے ٹیکنیشنز کا کیمپ بھی پریس کلب کے سامنے قائم ہے۔
ان ٹیکنیشنز کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں لیکن انھیں مستقل بنیادوں پر تعینات نہیں کیا جا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تمام ٹیکنیشنز کو مستقل کر دیا گیا ہے۔
پشاور کے قریب جلوزئی کیمپ میں مقیم قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین بھی پشاور پریس کلب کے سامنے بطور احتجاج موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان متاثرین کا کہنا ہے کہ انھیں کیمپ میں سہولیات میسر نہیں اور جو لوگ واپس اپنے علاقوں کو جا چکے ہیں ان کے لیے وہاں حالات خراب ہیں لیکن اس طرف حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
اس کے علاوہ جمعرات کو پشاور میں سرکاری ہسپتالوں کی نرسوں نے بھی احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔
نرسوں کا مطالبہ تھا کہ ان کے الاؤنس میں اضافہ کیا جائے اور ان کے گریڈ بڑھائے جائیں۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے نرسوں کا الاؤنس دس ہزار روپے پہلے سے مقرر کر دیا ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ حکومت زیر تعلیم نرسوں کے احتجاج کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر رہی ہے۔
اُدھر پشاور ڈرائی پورٹ میں امپورٹرز کی دس روز سے جاری ہڑتال آج موخر کر دی گئی ہے۔
پشاور ڈرائی پورٹ میں درآمد کنندگان یا امپورٹرز کے رہنما ضیاء الحق سرحدی نے کہا ہے کہ آج حکام کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں جس میں ان کی مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کی مد میں ایک فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف یہ احتجاج کیا جا رہا تھا۔
گذشتہ روز ٹرانسپورٹرز نے بھی روٹ پرمٹ کی تجدید پر پابندی کے خلاف مختلف مقامات پر روڈ بلاک کر دیے تھے۔







