پشاور میں پولیو ویکسین سے انکار پر 70 افراد گرفتار

پشاور کے 60 یونین کونسلز ایسی ہیں جہاں اکثر اوقات والدین بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرتے رہے ہیں جن میں حیات آباد، ناصر باغ، ملکنڈیر، بڈھ بیر، نہاکی اور خالصہ کے علاقے شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپشاور کے 60 یونین کونسلز ایسی ہیں جہاں اکثر اوقات والدین بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرتے رہے ہیں جن میں حیات آباد، ناصر باغ، ملکنڈیر، بڈھ بیر، نہاکی اور خالصہ کے علاقے شامل ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو پولیو ویکسین دینے سے انکار کرنے والے تقریباً 200 افراد کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں جن میں سے 70 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر میں قائم ضلعی پولیو کنٹرول روم کے ایک اہلکار عرفان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے پشاور بھر میں تین روزہ پولیو مہم کے دوران تقریباً آٹھ لاکھوں بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

* <link type="page"><caption> پختون آبادی والے علاقوں ہی میں پولیو آخر کیوں؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/04/160418_polio_khyber_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

انھوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران تقریباً دو ہزار والدین نے اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا جب ماضی کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے انکار کرنے والے والدین کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے 200 ایسے افراد کی ورانٹ گرفتاری جاری کیے۔

اہلکار کے مطابق اب تک اس ضمن میں 70 افراد کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا گیا ہے جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کےلیے پولیس کی جانب سے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ آئندہ چند ماہ کے دوران پاکستان سے پولیو کی بیماری کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ آئندہ چند ماہ کے دوران پاکستان سے پولیو کی بیماری کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے

عرفان اللہ نے مزید بتایا کہ پشاور کے 60 یونین کونسلز ایسی ہیں جہاں اکثر اوقات والدین بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرتے رہے ہیں جن میں حیات آباد، ناصر باغ، ملکنڈیر، بڈھ بیر، نہاکی اور خالصہ کے علاقے شامل ہیں۔

عرفان اللہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے اور غالب امکان ہے کہ ان پر کسی نہ کسی طریقے سے بہت جلد قابو پالیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ آئندہ چند ماہ کے دوران پاکستان سے پولیو کی بیماری کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ادارے کے نمائندے ڈاکٹر مائیکل تھیئرن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں سال پاکستان اور اس کے پڑوسی ملک افغانستان میں پولیو کے چند مریض ہی سامنے آئے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سمیت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اکثر اوقات پولیو ٹیموں پر حملے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے بھی اکثر پولیو کے رضاکار دور افتادہ علاقوں میں جانے سے کتراتے رہے ہیں۔ تاہم فوجی کاروائیوں کی وجہ سے بیشتر مقامات پر حکومت کی عملداری بحال کردی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں مقیم پناہ گزین آئی ڈی پیز بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا بھی آسان ہوگیا ہے۔