فاٹا میں اساتذہ کا احتجاج، تعلیمی ادارے بند

قبائلی علاقوں میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کی شدید کمی کے باعث فاٹا میں تعلیم کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے
،تصویر کا کیپشنقبائلی علاقوں میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کی شدید کمی کے باعث فاٹا میں تعلیم کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کی وجہ سے زیادہ تر سرکاری تعلیمی ادارے غیر اعلانیہ طور پر بند ہیں۔

اساتذہ تنظیموں کی طرف سے اس سلسلے میں اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔

بدھ کو فاٹا کے مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اساتذہ کی طرف سے ہڑتال کے باعث زیادہ تر قبائلی علاقوں میں تعلیمی ادارے بند رہے۔

فاٹا کے محکمہ تعلیم کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے باعث بیشتر مقامات پر اساتذہ نے کلاسوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے سکولوں میں طلبہ کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔

انھوں نے کہا کہ بعض مقامات پر اساتذہ نے پہلے سے طلبہ کو بتایا ہوا تھا کہ احتجاج کے باعث وہ سکول نہیں آئیں گے جس کے باعث طلبہ نے بھی سکولوں کا رخ نہیں کیا۔

ادھر آل فاٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی طرف سے بدھ کی صبح سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی دھرنے کا آغاز کیا گیا ہے جس میں فاٹا بھر سے اساتذہ تنظیموں کے رہنما بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔

دھرنے میں موجود آل فاٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر خان مالک خان محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ چار سالوں سے فاٹا میں کام کرنے والے تمام اساتذہ کی ترقیاں اور اپ گریڈیشن رکی ہوئی ہیں اور حکومت کی جانب سے بار بار یقین دہانیوں کے باوجود ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جا رہے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے صدارتی آرڈیننس 1972 کے تحت فاٹا میں کام کرنے والے تمام اساتذہ اور ملازمین کو خیبر پختونخوا کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا لیکن ان کو ترقیاں نہیں دی گئیں۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے چار سال پہلے اپنے تمام اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور انھیں ایک درجہ ترقی بھی دی گئی لیکن فاٹا کے تمام اساتذہ کو ان مراعات سے ابھی تک محروم رکھا گیا ہے۔

خان مالک خان محسود نے مزید کہا کہ گذشتہ سال بھی ان کی طرف سے اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں سیفران کے وفاقی وزیر عبد القادر بلوچ اور سینیٹ کے چئیرمین رضا ربانی کی مداخلت اور یقین دہانیوں پر ان کی طرف سے احتجاج ختم کیا گیا تھا لیکن ان کا ایک مطالبہ بھی ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔

خان مالک خان محسود نے خبردار کیا کہ ان کا حالیہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات کے پورا ہونے کا اعلامیہ ان کے سامنے جاری نہیں کیا جاتا۔

یاد رہے کہ فاٹا میں ایک اندازے کے مطابق 30 ہزار کے لک بھگ اساتذہ اور ملازمین تعینات ہیں۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقے ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت سب سے زیادہ پسماندہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کی شدید کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے فاٹا میں تعلیم کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

قبائلی علاقوں میں تعلیمی اداروں پر شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے باعث تعلیمی شرح مزید کم ہوگئی ہے۔