پشاور میں افغان قونصلیٹ احتجاجاً بند

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغانستان نے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں متعین افغان قونصل جنرل کی گاڑی کی تلاشی لینے کے معاملے پر پشاور میں واقع افغان قونصلیٹ احتجاجاً بند کردیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق منگل کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پشاور کینٹ کی حدود میں افغان کونسل جنرل ڈاکٹر عبداللہ وحید پایون کی گاڑی کو روک کران کی تلاشی لی گئی جس پر بعد میں سفارت کار کی طرف سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔
* <link type="page"><caption> کابل کے حکم پر انگور اڈہ سرحدی گیٹ تین دن سے بند</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160524_angoor_adda_gate_border_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
* <link type="page"><caption> جنرل راحیل کا فیصلہ، طورخم سرحد کھول دی گئی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160513_torkham_opens_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ایک اہلکار حامد ہمدرد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پشاور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے افغان قونصل جنرل کی گاڑی کو روک کر اس کی تلاشی لی گئی تھی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اس بارے میں مزید معلومات نہیں ہیں۔
سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کینٹ کے علاقے میں سفارت کاروں اور سرکاری اہلکاروں کی گاڑیوں کےلیے ایک الگ لین مختص ہے لیکن افغان سفارت کار کی گاڑی پروٹوکول سے ہٹ کر دوسری لین پر آئی۔ انھوں نے کہا کہ سفارت کار کی گاڑی کو سکیورٹی چیک پوسٹ پر روک دیا گیا اور اس کی تلاشی کی گئی۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد افغان قونصل جنرل نے دفتر پہنچتے ہی ایک حکم نامہ تحریر کیا جس کے تحت افغان قونصلیٹ پشاور احتجاجاً غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سلسلے میں افغان قونصل جنرل کا موقف جاننے کےلیے ان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ افغان قونصلیٹ پشاور کو ایسے وقت بند کیا گیا ہے جب حکومت پاکستان نے بدھ سے پاک افغان سرحد طورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو قانونی سفری دستاویزات کے بغیر داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کی طرف سے اس ماہ کے شروع میں بھی طورخم سرحد بند کردی گئی تھی تاہم بعد میں اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی جس کے بعد فوج کے سربراہ کے حکم پر سرحد کھول دی گئی تھی۔
گذشتہ کچھ عرصے سے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین سرحد کے معاملات پر وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان میں قانونی طورپر مقیم افغان مہاجرین کی رہنے کی معیاد اس ماہ یعنی جون کے آخر میں ختم ہورہی ہے۔ تاہم افغان حکومت نے ایک مرتبہ پھر افغان مہاجرین کی معیاد میں مزید چار سال کی توسیع دینے کی درخواست کی ہے۔







