تحفظ حقوق نسواں کے مجوزہ بل کے چند نکات

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے جمعرات کو تحفظ حقوق نسواں بل کے مجوزہ مسودے پر بحث کی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے تین روزہ اجلاس کا دوسرا دور اسلام آباد میں کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
٭ <link type="page"><caption> ’اسلام میں عورت پر تشدد کی اجازت نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160526_cii_women_protection_bill_rh" platform="highweb"/></link>
اس اجلاس میں تحفظ حقوق نسواں کے حوالے سے 163 دفعات پر مشتمل بل کا مسودہ پیش کیا گیا۔
مولانا محمد خان شیرانی کے مطابق یہ مسودہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے اور آئندہ اجلاس میں اس پر مزید غور کیا جائے گا۔
مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اس مسودے میں بیوی کو ’ہلکی پھلکی مارپیٹ‘ کی اجازت، مخلوط تعلیم، خاتون نرسوں کی جانب سے مرد مریضوں کی تیمارداری اور ’فحش‘ اشتہارات میں خواتین کے کام کرنے پابندی کی تجاویز کے علاوہ خواتین کے جائیداد کے حق، مذہب کی تبدیلی اور شادی سے متعلق قوانین کی بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
مجوزہ بل کے اہم نکات
٭ خواتین کو اپنی جائیداد رکھنے کا حق ہو گا۔
٭ خواتین کا اپنی جائیداد سے متعلق وصیت کا حق ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
٭ شوہر سمجھانے بجھانے کے لیے ضرورت کے مطابق اپنی بیوی کو ’ہلکا پھلکا‘ مار پیٹ سکتا ہے۔
٭ شوہر کی طرف سے زیادہ مار پیٹ کی صورت میں بیوی عدالتی کارروائی کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔
٭ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا قابل تعزیر جرم ہو گا۔
٭ عاقل اور بالغ خاتون کو نکاح کے لیے سرپرست کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔
٭ اگربیوی کو نان نفقہ نہیں ملتا تو اس کو خلع کا حق حاصل ہو گا۔
٭ ونی یا تنازعے کے حل کے لیے شادی قابل تعزیر جرم ہو گا۔
٭ قرآن سے خاتون کی شادی قابل سزا جرم ہو گا جس میں دس سال قید سزا ہو گی۔
٭ جہیز کے مطالبے اور نمائش پر پابندی ہو گی۔
٭ خواتین کو سیاست میں شمولیت کی اجازت ہو گی۔
٭ خواتین جنگی کارروائیوں میں شمولیت کی ذمہ دار نہیں ہیں۔
٭ جنگ میں خواتین کو قتل کرنا ممنوع ہے۔
٭ خواتین جج بن سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
٭ خواتین کو غیرملکی حکام اور ریاست کے مہمانوں کے استقبال کی اجازت نہیں ہو گی۔
٭ کسی خاتون کے زبردستی مذہب کی تبدیلی پر تین سال قید کی سزا ہو گی۔
٭ مذہب اسلام چھوڑنے پر کسی خاتون کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔
٭ باشعور خواتین کو اسلام قبول کرنے کی اجازت ہو گی۔
٭ تیزاب گردی یا خواتین کے خلاف پرتشدد اقدامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
٭ غیرت کے نام پر قتل، کاروکاری اور سیاہ کاری پر پابندی ہو گی۔
٭ پرائمری سطح کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہو گی۔
٭ پرائمری سطح کے بعد مخلوط تعلیم کی صرف اسی صورت میں اجازت ہو گی اگر حجاب کو لازمی قرار دیا جائے اور مرد و خواتین کے میل جول کی اجازت نہ ہو۔
٭ خواتین کے ’فحش‘ اشتہاروں میں کام کرنے پر پابندی ہو گی۔
٭ خاتون نرسیں مرد مریضوں کی تیمارداری نہیں کریں گی۔
٭ خواتین سے ’زبردستی مشقت‘ نہیں لینا چاہیے۔
٭ مائیں کم از کم دو سال تک بچوں کو اپنا دودھ پلائیں۔
٭ ماں کے دودھ کے متبال خوراک کے اشتہاروں پر پابندی ہو گی۔
٭ شوہر کی اجازت کے بغیر خاتون مانع حمل اشیا استعمال نہیں کر سکتیں۔
٭ 120 دن کے حمل کے بعد حمل گرانا قتل تصور کیا جائے گا۔







