’انسانی کلوننگ، تبدیلی جنس حرام، ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی اجازت‘

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ کونسل نے انسانی کلوننگ اور جنس میں تبدیلی کو حرام قرار دیا ہے جبکہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی مخصوص حالات میں اجازت ہے۔
اس بات کا اعلان اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے منگل کو کونسل کے 193 اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا اختر شیرانی نے کہا کہ اجلاس ميں سات اہم نکات پر فیصلے کیےگئے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسلام میں تحقیق اور سوچ پر کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن جدت کو اسلام کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے اجلاس کی سفارشات کو برقرار رکھتے ہوئےانسانی کلوننگ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
جنس کی تبدیلی کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ہی کے لیے جنس تبدیل کرنا حرام ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایک شخص میں مرد اور عورت دونوں ہی کی خصوصیات موجود ہوں تو اس کا آپریشن ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ آپریشن کراتے وقت خیال رکھنا ہو گا کہ یہ آپریشن اسلام کے مطابق ہو۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے اعلان کیا کہ اسلام میں بچے کی جنس کے انتخاب پر ممانعت نہیں ہے اور ایسا شریعت کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسا کرنا عام نہیں ہو جانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کے بعد اس کے چیئرمین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی مخصوص حالات میں اجازت ہے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا کہ یہ مخصوص حالات کیا ہیں۔
مولانا محمد خان شیرانی نے ماں کے دودھ کا عطیہ دینے کے حوالے سے کہا کہ اس قسم کے اداروں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے خاندانی زندگی متاثر ہوتی ہے اور یہ بچوں کے لیے مفید بھی نہیں ہیں۔
چوری چھپے کی گئی ریکارڈنگ کو عدالت میں بطور ثبوت پیش کرنے کو عمومی پالیسی کا حصہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ صرف خاص موقعوں ہی پر اس کی اجازت ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے نے جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت کے طور پر قبول کرنے اور توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو سزائے موت دینے کی تجاویز کو رد کر دیا تھا۔
مولانا محمد خان شیرانی نے ایک پریس کانفرنس میں کونسل کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو واحد اور بنیادی ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔







