’نواز راحیل ملاقات پر پاناما لیکس کے سائے‘

ملاقات کے بارے میں آئی ایس پی آر نے کوئی بیان جاری نہیں کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنملاقات کے بارے میں آئی ایس پی آر نے کوئی بیان جاری نہیں کیا
    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم کے درمیان ایک طویل وقفے کے بعد ہونے والی ملاقات کے بعد میڈیا میں اس حوالے سے آنے والی خبروں اور تبصروں کے بارے میں حکومت نے کہا ہے کہ ’قیاس آرائیوں اور غیر متعلقہ امور کی خبریں دینے سے گریز کیا جائے۔

بدھ کی صبح شائع ہونے والے تمام قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں منگل کی شام سے ہی اس ملاقات کے بارے میں خبروں میں بے نام ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فوجی سربراہ جنرل شریف نے وزیر اعظم سے پاناما لیکس کا معاملہ جلد از جلد حل کرنے کی درخواست کی ہے۔

معروف انگریزی اخبار ڈان کے مطابق ملکی سلامتی سے متعلق اجلاس سے قبل وزیراعظم ہاؤس میں جنرل شریف اور وزیراعظم شریف کے درمیان علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں جنرل شریف نے کہا ہے کہ’ پاناما لیکس کی تحقیقات پر طویل تنازع سے حکومتی کارکردگی اور قومی سلامتی متاثر ہو رہی ہے اور مسئلہ عدم استحکام اور عدم تحفظ کا باعث بن رہا ہے۔‘

اخبار کے مطابق جنرل شریف نے کہا کہ اس مسئلے کو فوری ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ جنگ نے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کے حوالے سے خبر شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیراعلیٰ پنجاب نے آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

منگل کو اس ملاقات کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ پر پاناما لیکس کے بارے میں خبریں نشر ہونا شروع ہوئیں تو حکومت نے بیان جاری کیا کہ’ملاقات میں سکیورٹی کے علاوہ کسی امور پر بات چیت نہیں ہوئی۔‘

لیکن دوسری جانب فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ اس ملاقات کے بارے میں ہونے والی خبروں پر خاموش ہے اور کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

’اس وقت سول حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات میں کچھ مسائل ہیں‘

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن’اس وقت سول حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات میں کچھ مسائل ہیں‘

سول ملٹری تعلقات میں سرد مہری کی خبریں اس وقت آنا شروع ہوئیں تھیں جب مارچ میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو گرفتار کیا اور اس معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ’خاموشی‘ کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے۔

ابھی اس معاملے پر مقامی ذرائع ابلاغ پر بحث مباحثے ہو رہے تھے کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم کے خاندان کا نام سامنے آنے کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل مچ گئی اور یہ طوفان ابھی تک تھما نہیں۔

اس معاملے نے زیادہ شدت اس وقت اختیار کی جب آرمی چیف نے ملک میں ہر سطح پر احستاب کی حمایت کا اعلان کیا اور کے چند دن بعد یہ خبر دی گئی کہ فوج نے کم از کم چھ اعلیٰ افسران کو بدعنوانی کے الزام میں نوکریوں سے برطرف کر دیا ہے۔

پاکستان میں اس وقت حزب مخالف پاناما لیکس کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اس وقت حزب مخالف پاناما لیکس کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات میں فوج کا سربراہ سول معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے لیکن اس پر حتمی فیصلہ سول قیادت نے ہی کرنا ہوتا ہے۔

جنرل شریف اور وزیراعظم شریف کے درمیان ایک وقفے کے بعد ملاقات پر ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ’اندازہ تو یہ ہی ہے کہ اس وقت سول حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات میں کچھ مسائل ہیں اور ان کا بنیادی تعلق ملک میں امن و امان کی صورتحال، بدعنوانی اور ضرب عضب کے ساتھ ملک میں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے ہے۔‘

ڈاکٹر حسن عسکری نے جنرل شریف کی جانب سے پاناما لیکس کے معاملے کو حل کرنے کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کو کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا کیونکہ پانچ ہفتے گزرنے کے بعد بھی معاملہ جوں کا توں ہے اور اس میں فوج سمجھتی ہے کہ اس تنازعے کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سول حمایت ختم ہو جائے گی۔‘

چین پاکستان اقتصادی راہداری پر فوج اور سول قیادت کے درمیان مبینہ کشیدگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس وقت فوج یہ نہیں کہہ رہی کہ سارا منصوبہ ان کو دے دیا جائے بلکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ بجائے اس کے کہ چار مختلف محکمے مل کر کام کریں، ایک مرکزی اتھارٹی بنائی جائے جو اس منصوبے پر عمل درآمد کرے کیونکہ اس وقت اس منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے مسائل حائل ہیں۔