’وزیراعظم سے فرار کا راستہ اختیار کرنے کی توقع نہیں‘

پیر کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپیر کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف کی پارلیمان سے مسلسل غیر حاضری کے خلاف منگل کو بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں سے واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کرنے سے قبل ایوان میں بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ جب وزیر اعظم خود کہہ رہے کہ پارلیمان سب سے مقدم ادارہ ہے تو پھر وہ پاناما لیکس کے معاملے پر ایوان میں آ کر بیان کیوں نہیں دیتے۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ایوان کو بتایا کہ وزیر اعظم کی منگل کو مصروفیات بہت زیادہ ہیں جس میں اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں اس لیے وہ آج ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوسکتے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم 11 مئی کو بیرون ملک روانہ ہوں گے جس کے بعد وہ 13 مئی یعنی جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے وفاقی وزیر اطلاعات سے دریافت کیا کہ وزیر اعظم کی مصروفیات کا شیڈول کون بناتا ہے جس پر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اس کے لیے وزیر اعظم کے عملے کے ارکان معمور ہیں۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ چونکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے ایوان کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے تو اس لیے حزب مخالف کی جماعتیں بھی اسی روز ایوان میں آئیں گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

یہ کہہ کر حزب مخالف کی جماعتیں ایوان سے واک آوٹ کر گئیں ۔ اس دوران حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن نے کورم کی نشاندہی کی جس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل کردی گئی۔

بعدازاں حکومت اور اس کے اتحادی جماعتوں کے ارکان ایوان میں آگئے اور کورم پورا ہونے پر قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی شروع کی گئی ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس کچھ دیر تک جاری رہنے کے بعد 12 مئی تک ملتوی کردیا گیا۔

ادھر پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں بھی حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان نے کارروائی کا کچھ دیر کے لیے بائیکاٹ کیا۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے ایوان میں نہ آنے کی وجہ سے حزب مخالف کی جماعتیں بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم ہاوس میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم ہاوس کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں ملک کی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کی آسانی کے لیے اپوزیشن کے سوالات کا پرچہ آؤٹ کر دیں گے اور ہمارے ان سے پانچ یا چھ سوالات ہوں گے اور ان کے بارے میں کل آگاہ کر دیا جائے گا۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم ایوان میں آئیں گے تو ان کو ادب سے سنیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک وزیراعظم ایوان میں آ کر اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی وضاحت نہیں کریں گے حزب اختلاف کا واک آؤٹ جاری رہے گا۔

’ہم توقع کرتے ہیں کہ وزیراعظم پارلیمان میں آئیں گے اور مفرور نہیں رہیں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’ہم توقع کرتے ہیں کہ وزیراعظم پارلیمان میں آئیں گے اور مفرور نہیں رہیں گے‘

قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے حزب اختلاف کی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس ہوا۔ جس کے بعد سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ سینیٹ میں بھی قومی اسمبلی کی طرح حکمت عملی اپنائی جائے گی جس میں کچھ دیر ایوان میں جا کر وزیراعظم کا انتظار کریں اور پھر واک آؤٹ کر جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ’ہم توقع کرتے ہیں کہ وزیراعظم پارلیمان میں آئیں گے اور مفرور نہیں رہیں گے اور فرار کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔‘

یاد رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں وزیر اعظم سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ پاناما لیکس میں ہونے والے انکشافات کے بعد ایوان میں آ کر اپنے اثاثوں کی تفصیلات پیش کریں۔