پاناما لیکس کی دوسری قسط کی دنیا منتظر

،تصویر کا ذریعہ
پاناما پیپرز کی پہلی قسط کے شائع ہونے والی تفصیلات کی بازگشت ابھی تھمی نہیں کہ دنیا اس کی دوسری قسط کے لیے آج تیار ہو رہی ہے۔
انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس یعنی آئی سی آئی جے موساک فونسیکا کے لیک ہوئے دستاویزات کے مزید تفصیل پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات گیارہ بجے شائع کرنے جا رہے ہیں۔
یہ دستاویزات offshoreleaks.icij.org پر مہیا ہوں گے۔
آئی سی آئی جے کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات وکی لیکس کی طرح ایک جگہ نہیں ڈالے جائیں گے۔ بلکہ اس میں دو لاکھ آف شور کمپنیوں میں ان امرا کے نام ہوں گے جنھوں نے اپنی دولت ان کمپنیوں میں چھپا رکھی ہے۔
پاناما لیکس کے پیچھے شخص نے حال ہی میں اپنی شناخت ’جان ڈو‘ کے نام سے کرائی ہے۔ انھوں نے ایک سال قبل جرمنی کے ایک اخبار کو 2.6 ٹیرا بائٹس کا ڈیٹا فراہم کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ڈیٹا موساک فونسیکا لا فرم کا ہے جو آف شور کمپنیاں تخلیق کرنے اور چلانے میں مہارت رکھتی ہے۔ اس ڈیٹا میں چار دہائیوں کی معلومات موجود ہیں۔
اس جرمن اخبار نے آئی سی آئی جے کو اس معلومات تک رسائی دی اور اس پر اس گروپ کے دنیا بھر کے سینکڑوں صحافیوں نے کام کیا۔
پاناما لیکس کی پہلی قسط میں دنیا بھر سے سیاسی رہنماؤں، مشہور شخصیات اور کچھ جرائم پیشہ افراد کے نام سامنے آئے تھے۔
پاناما لیکس میں آف شور کمپنی کے حوالے سے نام آنے کے بعد آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو مستعفی ہونا پڑا۔
دوسری جانب کے بچوں کے نام آنے پر حزب اختلاف نے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آف شور کمپنی میں رقم کہاں سے ڈالی گئی اور یہ رقم کہاں سے آئی۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعتراف کیا کہ ان کے والد نے بھی آف شور کمپنی شروع کی تھی۔
چین نے پاناما لیکس کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا کی نگرانی سخت کر دی کیونکہ پاناما پیپرز میں چینی رہنماؤں کے خاندان کے نام آئے ہیں۔
اس کے علاوہ فٹ بال سٹار لیونل میسی، ہانگ کانگ کے سٹار جیکی چین کے نام بھی شامل ہیں۔
موساک فونسیکا نے آئی سی آئی جے کو دیگر مواد شائع نہ کرنے کا کہنا ہے لیکن اب تک معلومات کے مطابق صحافیوں کا گروپ مواد شائع کرے گا۔
آئی سی آئی جے کا کہنا ہے کہ عوام کا حق ہے کہ ان کو آف شور کمپنیوں کی معلومات تک رسائی حاصل ہو۔
آئی سی آئی جے کی ڈپٹی ڈائریکٹر میرینا واکر نے سی این این کو بتایا ’ہمارے خیال میں کون سی کمپنی کا مالک کون ہے کی معلومات عوام تک پہنچانی چاہیے اور شفاف طریقے سے پہنچانی چاہیے۔‘







