پاناما لیکس کےبعد پہلی ملاقات، ’سکیورٹی امور پر بات ہوئی‘

پاناما پیپرز کے آنے کے بعد وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی پہلی ملاقات منگل کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہوئی۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی، نقل مکانی کرنے والے افراد، ضرب عضب کی پیش رفت پر بات کی گئی۔
اس ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افواہوں پر خبریں بنانے سے گریز کی جائے۔
اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے ممبر قومی اسمبلی محمد زبیر نے اس ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ اس ملاقات میں سکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
’اس اجلاس کے حوالے سے مشترکہ بیان بھی جاری ہو گیا ہے۔‘
پاکستان مسلم لیگ نواز کے ممبر قومی امسبلی محمد زبیر اور دانیال عزیز نے اپوزیشن کی جانب سے دیے گئے ٹی اور آرز اور اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کی تحقیقات کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ وہ پاناما لیکس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے اور اس مسئلے کو حل کریں کے، جواب میں محمد زبیر نے کہا ’وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کی ملاقات ہوئی ہے آج۔ اس ملاقات میں سکیورٹی کے امور پر بات چیت ہوئی ہے اور ملک میں سکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اس ملاقات میں سکیورٹی کے علاوہ کسی امور پر بات چیت نہیں ہوئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور جنرل راحیل شریف کی ملاقات باقاعدگی سے ہوتی رہتی ہے۔







