بدعنوانی کا الزام: بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ گرفتار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان میں قومی احتساب بیورو نے بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشاق رئیسانی کو بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا ہے جس کے بعد صوبائی مشیر خزانہ نے بھی استعفی دے دیا ہے۔
نیب کے ذرا ئع نے دعویٰ کیا کہ مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپے کے دوران 60 کر وڑ روپے کی ما لیت سے ز ائد کی ملکی اور غیر ملکی کر نسی برآمد کی گئی۔
* <link type="page"><caption> سندھ میں دو ماہ میں کرپشن کے الزام میں 52 افسران گرفتار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150830_sindh_corruption_arrest_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
* <link type="page"><caption> خیبر پختونخوا میں نو سرکاری افسران گرفتار: نیب</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150916_kpk_nab_arrest_hk.shtml" platform="highweb"/></link>
مشتاق رئیسانی کو جمعے کو سول سیکریٹریٹ میں ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا۔
ان کی گرفتاری کے خلا ف محکمہ خزانہ کے صوبائی ملاز مین نے احتجاجی مظا ہرہ کیا اور دفاتر کی تالا بندی کی۔
سیکرٹری خزانہ کو گرفتار کرنے کے بعد نیب ہیڈ کوارٹر میں منتقل کیا گیا۔ نیب کے ذرائع کے مطابق شام کو سیکر یٹر ی خزانہ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے بھاری مقدار میں ملکی اور غیر ملکی کرنسی برآمد کر نے کے علا وہ سونا بھی برآمد کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ سیکریٹری خزانہ کے گھر سے مجموعی طو ر پر 60کر وڑ روپے کی ما لیت سے ز ائد کی کرنسی برآمد کی گئی جن میں پاکستانی رو پے، امریکی ڈالر ، برطا نوی پاؤنڈ اور ریال بھی شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیب کے ذرائع کے مطا بق سیکرٹری خز انہ کے گھر سے ایک کروڑ روپے مالیت کا سونا بھی برآ مد کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کرنسی اتنی زیادہ تھی کہ اس کی گنتی کے لیے مشینیں منگوانی پڑیں۔
نیب کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کے گھر سے چھاپے کے دوران مختلف شہر وں میں جائیداد کے دستاویزات بھی برآمد کیے گئے۔ ان کے مطابق کے مطابق سیکرٹری خزانہ کے خلاف 2013 سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پر وگرام (پی ایس ڈی پی ) اور لو کل گورنمنٹ کے فنڈز میں خورد برد کے حوالے سے ایک کیس کی تحقیق ہورہی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ اس کیس میں سیکرٹری خزانہ پر ایک ارب روپے سے زائد کی بد عنوانی کا الزام تھا۔
مشیر خزانہ بھی مستعفی
سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ مستعفی ہونے کا اعلان انھوں نے جمعہ کی شب ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا۔
خالد لانگو کا تعلق قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ اڑھائی تین سال سے وہ محکمہ خزانہ کو چلا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے حلقہ انتخاب میں بھی اس حوالے الزامات لگے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ اس محکمے کو چلارہے تھے اس لیے اس بات کا اخلاقی جواز نہیں کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک مشیر خزانہ رہیں اس لیے وہ مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔







