ہمارا دامن صاف ہے: نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty

    • مصنف, شیراز حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس اسلام آباد

پاکستانی فوج کی جانب سے درجن بھر اعلیٰ افسران کی برطرفی کے بعد حکمراں جماعت سمیت ملک کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف کی سربراہی میں ایک اہم مشاورتی اجلاس کی اطلاع ملی جس میں وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمارا دامن صاف ہے، ہم ماضی میں بھی کڑے سے کڑے انتقامی احتساب سے سرخرو ہو کر گزرے ہیں۔‘

٭ <link type="page"><caption> بدعنوانی کے الزام میں فوجی افسران برطرف</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/04/160421_army_corruption_dismissed_sh" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> احتساب کے مطالبے میں شدت</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/04/160419_army_chief_statment_political_parties_reaction_sr" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ ’ہمارے مخالفین کو یہ بات کھٹکتی ہے کہ اگر حکومت نے اپنی آئینی میعاد پوری کر دی تو وہ سیاست کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔‘

پاکستان کی فوج سے چھ افسران کی بدعنوانی کے الزام میں برطرفی کی خبر کو کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہیے۔

فوج میں احتساب کے عمل کے آغاز سے الزامات کی دلدل میں پھنسی حکمران جماعت پر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے سامنے آنے والے تفصیلی بیان میں فوج میں شروع ہونے والے احتساب کے عمل پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

’کوئی مقدس گائے نہیں‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کا عمل بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا اور اگر یہ اب ہو گیا ہے تو یہ ایک احسن قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سب کو اپنا اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ احتساب بلاامتیاز ہونا چاہیے اور کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہیے۔ ارکان پارلیمان، سول حکومت فوج، بیوروکریسی اور سکیورٹی کے اداروں، سب کا احتساب ہونا چاہیے۔‘

جنرل راحیل شریف نے اپنے گھر سے بدعنوانی سے صفائی کا آغاز کیا ہے: پرویز الہٰی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنرل راحیل شریف نے اپنے گھر سے بدعنوانی سے صفائی کا آغاز کیا ہے: پرویز الہٰی

’چیف نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا ہے، ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے احتسابی عمل کا مظاہرہ پوری قوم کے سامنے کر کے دکھایا ہے جس میں لیفٹیننٹ جنرل اور میجر جنرل کی سطح کے افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ’ایک لحاظ سے یہ ہم سب کو اور سویلین اداروں کو بھی آئینہ دکھایا گیا ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کی سیکریٹری جنرل شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف نے بلاامتیاز احتساب کی بات کی اور اس کا آغاز اپنے ادارے فوج سے کیا۔ لیکن حکومت تاحال مخمصے میں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اچھی روایت

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’یہ ایک بہت اچھی روایت قائم ہوئی ہے اور اب ہمیں سرجوڑ کر دیکھنا ہوگا کہ احتساب کے بغیر کام نہیں چلے گا اور عوام ہمیں معاف نہیں کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمان کو بھی اپنے احتساب کے لیے نظام متعارف کروانے کی ضررت ہے۔

گھر سے صفائی

مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے اپنے گھر سے بدعنوانی کی صفائی کا آغاز کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ’امید کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور بدعنوانی کے سہولت کار بھی جیلوں میں جائیں گے تبھی یہاں امن و امان ہوگا اور یہ معاشرہ بدعنوانی سے پاک ہو گا۔‘