فوج میں احتساب، کم از کم چھ افسران برطرف

فوج کے شعبے تعلقات عامہ کی جانب سے تاحال برطرف کیے گئے افسران پر عائد الزامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوج کے شعبے تعلقات عامہ کی جانب سے تاحال برطرف کیے گئے افسران پر عائد الزامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی فوجی قیادت نے کم از کم چھ اعلیٰ افسران کو بدعنوانی کے الزام میں نوکریوں سے برطرف کر دیا ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق جن چھ افسران کو بدعنوانی کے الزام میں نوکریوں سے برطرف کیا گیا ہے اُن میں لیفٹینٹ جنرل عبیداللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد، بریگیڈیئر اسد شہزادہ، بریگیڈیئر عامر، بریگیڈیئر سیف اور کرنل حیدر شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر ذرائع نے 11 افسران کی برطرفی کے بارے میں خبر سامنے آئی تھی تاہم باقی پانچ افسران کی برطرفی کے بارے میں عسکری ذرائع نے نہ تو تردید کی ہے اور نہ ہی تصدیق۔

برطرف کردہ افسران کے خلاف عائد الزامات کی تفصیل بھی تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

نوکری سے برخاست کیے جانے والے تمام افسران کا تعلق فرنٹئیر کور بلوچستان سے بتایا گیا ہے۔

جبری ریٹائر کیے جانے پر پینشن کے علاوہ دی گئی تمام مراعات بھی واپس لے لی گئی ہیں۔

جنرل راحیل شریف نے حال ہی میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو ختم کیے بغیر ملک امن و استحکام ممکن نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنجنرل راحیل شریف نے حال ہی میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو ختم کیے بغیر ملک امن و استحکام ممکن نہیں ہے

برطرف شدہ افسران میں لیفٹینٹ جنرل عبیداللہ خٹک اور میجر جنرل اعجاز شاہد بلوچستان میں فرنٹئیر کور کے آئی جی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

عبید اللہ خٹک جس زمانے میں آئی جی ایف سی تھے تو انھیں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان میں بدامنی کے مقدمے میں عدالت میں پیش نہ ہونے پر توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

ان افسران کی برطرفی ایک ایسے موقعے پر عمل میں آئی ہے جب حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ مسلح افواج ملک میں ہر سطح پر احتساب کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کی حمایت کرے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو ختم کیے بغیر ملک امن و استحکام ممکن نہیں ہے۔

ان کے اس بیان کے بعد سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے دبی دبی زبان میں فوج کے ادارے میں بھی احتساب کی بات کی گئی تھی۔