این ایل سی بدعنوانی کیس میں دو فوجی جرنیل برخاست

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل لوجسٹک سیل یعنی این ایل سی میں مالی بے ضابطگیوں کی الزامات کی تحقیقات کی روشنی میں دو فوجی جرنیلوں کو فوج سے برخاست کر کے ان کی تمام مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے بدھ کی شام جاری ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کی انکوائری کمیٹی کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ دو سابق جرنیل اور ایک سویلین افسر بے ضابطگیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ 2009 میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ تین جرنیلوں نے سنہ 2004 سے 2007 تک سٹاک مارکیٹ سمیت مختلف شعبوں میں جو سرمایہ کاری کی اس سے این ایل سی کو ایک ارب 80 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
ان تین جرنیلوں میں لیفٹیننٹ جنرل خالد منیر، لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد ظہیر شامل تھے۔
سنہ 2010 میں جب موجودہ وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین تھے، انھوں نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی تو عین وقت پر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ اس کی تحقیقات فوج خود کرے گی۔
کیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے بدھ کی شام جاری ہونے والے تحریری بیان میں بھی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ این ایل سی کے عہدے داران نے سرمایہ کاری کرتے ہوئے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے احکامات اور قواعد کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے کمپنی کو مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنا عہدہ سھنبالتے ہی انصاف اور شفافیت کے لیے این ایل سی کیس کو جلد ازجلد منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بتایا گیا ہے کہ فوج کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک کمیٹی نے دوبارہ سے اس کیس کی تحقیق کی اور کئی ماہ تک ریکارڈ اور متعلقہ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ فوج کے دو ریٹائرڈ افسران میجر جرنل (ر) خالد ظہیر اختر، لیفٹینٹ جنرل افضل مظفر اور ایک سویلین افسر محمد سعید الرحمٰن نے سرمایہ کاری کے حوالے سے غلط فیصلے کیے اور این ایل سی کے قواعد کی خلاف ورزی کی جس سے اس عرصے میں ادارے کو مالی نقصان ہوا۔
حکام کا کہنا ہے فیصلے کے مطابق دونوں ریٹائرڈ افسران کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا رہی ہے۔
میجر جرنل(ر) خالد ظہیر اختر کو ’سروس سے برطرف کر دیا گیا ہے‘ یعنی ان کا رینک، انھیں دیےگئے میڈلز، اعزازات، اور پینشن کو ضبط کر لیا گیا ہے۔
لیفٹینٹ جنرل (ر) محمد افضل مظفر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انھوں نے ذاتی فوائد تو حاصل نہیں کیے تاہم انھوں نے ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے۔
تیسرے فوجی جنرل لیفٹینٹ جنرل(ر) خالد منیر خان کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ نہ تو کسی مالی بےضابطگی میں ملوث تھے اور نہ ہی انھوں نے کوئی غلطی کی ہے۔







