ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے نرسوں کی تربیت

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
طویل عرصے سے دہشت گردی کے شکار خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں پہلی مرتبہ ایک بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے ہنگامی صورت حال میں بڑے پیمانے پر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔
پاکستان میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی تنظیم آئی سی آر سی نے نرسوں کو تربیت فراہم کرنے کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاب پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں منعقد کی جس میں پاکستان بھر سے 25 نرسوں کو تربیت فراہم کی گئی۔ ان میں دس نرسوں کا تعلق لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے تھا۔
قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک عرصے سے جاری ہے اور اس دوران ہزاروں زخمی خیبر پختونخوا کے مختلف ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں۔
ان زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ڈاکٹروں کے ہمراہ نرسوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہی بڑی تعداد میں زخمیوں کو لایا جاتا ہے۔ اب انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کریسنٹ آئی سی آر سی نے پاکستان میں نرسوں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ’ٹراما‘ یا صدمے کی حالت میں مریضوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ایڈوانس تربیت فراہم کی ہے۔
آئی سی آر سی کی پشاور میں سربراہ مریم ملران نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے پہلے دیگر شعبوں کے لیے وہ سات کورس مکمل کرا چکے ہیں لیکن نرسوں کے لیے یہ تربیت پہلی مرتبہ ترتیب دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
ان کا کہنا تھا کہ اس کورس میں نرسوں کو بتایا گیا ہے کہ کیسے بہتر طریقے سے طبی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔
اس ادارے یا ٹیم میں ڈاکٹروں اور نرسوں کا اپنا اپنا کردار واضح ہونا چاہیے کہ کیسے لوگوں کی جان بچائی جا سکتی ہے اور ان ترجیحات کا تعین کرنا کہ کس زخمی کو پہلے طبی امداد فراہم کی جانی چاہیے اور اس کی وجوہات کیا ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تربیت حاصل کرنے والی ایک نرس شازیہ تبسم نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس ورکشاپ میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے وہ براہ راست انجیکشن دے دیتے تھے لیکن اب انھیں معلوم ہوا ہے کہ پہلے مریض کی سانس بحال کرنا ضروری ہوتا ہے اور مریض کی سانس کی نالی کو چیک کرنا اور اس کے علاوہ خون کی روانی دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تربیت بہت پہلے منعقد ہونی چاہیے تھیں اور بین الاقوامی تنظیموں کو بہت پہلے اس پر کام کرنا چاہیے تھا۔
ان نرسوں کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں زخمی لائے جاتے ہیں تو اس وقت بڑی تعداد میں عام اور غیر متعلقہ افراد جمع ہو جاتے ہیں جس سے مشکلات تو بڑھ جاتی ہیں لیکن اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انھیں تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔







