پشاور میں فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک

پشاور اور صوبے کے دیگر چند ایک علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپشاور اور صوبے کے دیگر چند ایک علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں منگل کی صبح سویرے ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعہ میں پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے میں ایک راہگیر بچہ زخمی ہوا ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اے ایس آئی قیصر شاہ رات بھر ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔ یہ واقعہ اندرون پشاور شہر تھانہ یکہ توت کے علاقے میں پنج کٹہ کے مقام پر پیش آیا۔

پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار نا معلوم افراد نے اے ایس آئی پر فائرنگ کی اور موقعے سے فرار ہو گئے۔

قیصر شاہ موقع پر دم توڑ گئے جبکہ ایک راہگیر بچہ اس میں زخمی ہوا ہے۔ بچے کی عمر گیارہ سال بتائی گئی ہے جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اے ایس آئی قیصر شاہ پشاور کے مصافاتی علاقے موسی زئی کا رہائشی تھا۔ انھوں نے کہا کہ قیصر شاہ کا تعلق اہل تشیع سے نہیں تھا۔

پشاور اور صوبے کے دیگر چند ایک علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

دو روز پہلے پشاور کے مصروف علاقے گلبہار میں نا معلوم افراد نے ایئر فورس سے ریٹائرڈ معروف ادیب اور شاعر صابر حسین اور ان کی بہو کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جب وہ بہو کو ہسپتال اور پوتے کو سکول چھوڑنے جا رہے تھے۔ اس حملے میں ان کا پوتا محفوظ رہا۔ صابر حسین کی بہو مقامی ہسپتال میں ڈاکٹر تھیں۔