پشاور اور کوہاٹ میں سکیورٹی میں اضافہ، درجنوں گرفتار

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
لاہور کے گلشن اقبال پارک میں خود کش حملے کے بعد خیبر پختونخوا میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور پشاور اور کوہاٹ میں درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ادھر صوبائی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قانون میں شامل شیڈول فور کے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کے لیے منصوبہ بندی کر لی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پشاور کے حیات آباد سرکل میں 22 افراد کو حراست میں لیاگیا ہے جبکہ گذشتہ روز کوہاٹ میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپ پر چھاپے مارے گئے جہاں سے پناہ گزینوں سمیت 30 افراد کو گرفتارکیا گیا ہے۔
پشاور کے پولیس افسر عباس مجید مروت نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں قانون کی مختلف دفعات کے تحت کی گئی ہیں اور ان میں ایسے لوگ بھی گرفتار کیے گئے ہیں جو کرائے کے مکانات میں رہتے ہیں اور انھوں نے پولیس کے پاس رجسٹریشن نہیں کرائی۔
ان کے کہنا تھا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے اور لاہور حملے کے بعد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والے افراد میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزین بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا پشاور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پرگاڑیوں کی چیکنگ شروع کر دی گئی ہے اور شہر میں ایسے مقامات جہاں شدت پسند حملے کر سکتے ہیں وہاں سیکیورٹی انتظامات بہتر کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں 28 پارک ہیں اور اسی طرح دیگر ایسے حساس علاقے ہیں جنھیں سکیورٹی فراہم کرنا ضروری ہے لیکن پولیس کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ممکن نہیں ہے کہ تمام مقامات پر ہر وقت پولیس تعینات رہے۔ اس لیے ان علاقوں میں موبائل پولیس موجود رہتی ہے ۔
یہاں ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ انسپکٹر جنرل پولیس نے انسداد دہشت گردی کے قانون میں شامل شیڈول فور میں شامل افراد کی فہرستیں تیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
انسداد دہشت گردی کے 1997 کے قانون میں شیڈول فور میں ان مشتبہ افراد کو شامل کیاگیا ہے جن کے دہشت گردوں یا شدت پسندوں کے ساتھ روابط رہے ہوں اور یا وہ کالعدم تنظیموں کے حمایتی ہوں اور یہ خدشہ ہو کہ وہ کہیں ان میں شامل ہو سکتے ہیں اس لیے پولیس ان پر کڑی نظر رکھتی ہے ۔
حیبر پختونخونخوا میں ایسے افراد کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ بتائی گئی ہے لیکن اس وقت پولیس کے پاس شیڈول فور کی موجودہ فہرست میں انتہائی کم افراد شامل ہیں کیونکہ ایک عرصے سے اس فہرست پر کوئی کام نہیں کیا گیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور میں شیڈول فور میں صرف 50 مشتبہ افراد شامل ہیں جبکہ پولیس اب اس فہرست کا جائزہ لے رہی ہے۔
یہاں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ حکومت شیڈول فور میں شامل افراد کے لائسنس اور دیگر دستاویزات بھی روک سکتی ہے۔ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو اپنے علاقے کے تھانے سے مسلسل رابطے میں رہنا پڑتا ہے اور مقامی تھانے کی اجازت کے بغیر وہ دیگر علاقوں میں نہیں جا سکتے۔







