سانحہ گلشن اقبال: سوگ، احتجاج، دعائیہ تقاریب

لاہور کے تفریحی مقام گلشن اقبال میں دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے مختلف شہروں میں دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں لاہور میں واقع تفریحی مقام گلشن اقبال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف مظاہرے ہوئے اور ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے مختلف شہروں میں لاہور میں واقع تفریحی مقام گلشن اقبال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف مظاہرے ہوئے اور ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
گلشنِ اقبال پارک میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 68 ہو گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنگلشنِ اقبال پارک میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 68 ہو گئی ہے۔
 اس حملے میں 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔
،تصویر کا کیپشن اس حملے میں 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔
صوبائی حکومت کی طرف سے گلشن اقبال حملے کے بعد پنجاب بھر میں تین روز سوگ کے اعلان کیا ہے ۔
،تصویر کا کیپشنصوبائی حکومت کی طرف سے گلشن اقبال حملے کے بعد پنجاب بھر میں تین روز سوگ کے اعلان کیا ہے ۔
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھی لاہور بم دھماکے کی مذمت کے گئی۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھی لاہور بم دھماکے کی مذمت کے گئی۔
 اس دوران زیادہ مرنے والے افراد کو مختلف علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔ لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں واقع قبرستان میں مسیحی برادری کی ایک بڑی تعداد جمع تھی جہاں دھماکے میں مرنے والے افراد کی تدفین کی گئی
،تصویر کا کیپشن اس دوران زیادہ مرنے والے افراد کو مختلف علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔ لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں واقع قبرستان میں مسیحی برادری کی ایک بڑی تعداد جمع تھی جہاں دھماکے میں مرنے والے افراد کی تدفین کی گئی
سانحہ گلشن اقبال کے سوگ میں لاہور شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات بند رہے۔
،تصویر کا کیپشنسانحہ گلشن اقبال کے سوگ میں لاہور شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات بند رہے۔
ادھر گلشن اقبال پارک کو خودکش حملے میں نشانہ بنائے جانے کے بعد تاحال عام لوگوں کےداخلے کے لیے بند رکھا گیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے اہلکار پیر کو سارا دن جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرتے رہے۔ تاہم ابھی تک تفتیش میں کوئی ٹھوس پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنادھر گلشن اقبال پارک کو خودکش حملے میں نشانہ بنائے جانے کے بعد تاحال عام لوگوں کےداخلے کے لیے بند رکھا گیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے اہلکار پیر کو سارا دن جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرتے رہے۔ تاہم ابھی تک تفتیش میں کوئی ٹھوس پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔
اتوار کی شام گلشن اقبال پارک لاہور میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک شدگان کی تدفین کا سلسلہ پیر کی صبح ہی سے شروع ہوگیا تھا اور شام گئے تک جاری رہا۔
،تصویر کا کیپشناتوار کی شام گلشن اقبال پارک لاہور میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک شدگان کی تدفین کا سلسلہ پیر کی صبح ہی سے شروع ہوگیا تھا اور شام گئے تک جاری رہا۔