سینکڑوں افراد کی جان بچانے والی خاتون

انڈیا کی شمالی ریاست اترا کھنڈ میں سنہ 2013 میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں ایک 24 سالہ خاتون ممتا راوت نے سینکڑوں افراد کی جان بچائی۔
ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ افراد اس تباہ کن سیلاب کی نذر ہو گئے۔ بی بی سی کے نمائندے سلمان راوی نے اس بہادر نوجوان خاتون سے ملاقات کی۔ سیلاب میں ان کا گھر تباہ ہو گیا لیکن یہ بات انھیں لوگوں کو بچانے سے باز نہیں رکھ سکی۔
٭ <link type="page"><caption> اس میں پیسہ نہیں اطمینان قلب تو ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/04/160403_unsung_indian_heroes_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> آگ کا پیچھا کرنے والا رضاکار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/03/160306_indian_unsung_heroes_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
وہ کہتی ہیں کہ وہ بنکولی گاؤں میں اپنے گھر میں تھیں جب انھیں موبائل فون پر یہ اطلاع ملی کہ ہمالیہ میں ٹریکنگ کرنے والے طلبہ کا ایک گروپ طوفانی بارش میں ایک جگہ پھنس گیا ہے۔
ممتا راوت جو پیشہ ور کوہ پیما اور گائیڈ ہیں وہ پہاڑوں میں ہی پلی بڑھی ہیں اور اس خطے کے چپے چپے سے واقف ہیں۔ وہ تیزی کے ساتھ پھنسے ہوئے گروپ کے پاس پہنچیں اور انھیں محفوظ مقام تک پہنچایا۔
بہر حال جب تک وہ واپس آتیں سیلاب نے علاقے کو اپنی زد میں لے لیا تھا اور چہار جانب سے امداد کے لیے کالز آ رہی تھیں۔

ممتا راوت نے بی بی سی کو بتایا کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے ان پر گزارشوں کی بوچھار ہونے لگی۔ ان میں سے بعض افراد سطح سمندر سے ڈھائی ہزار میٹر یا تقریباً ساڑھے سات ہزار فٹ کی بلندی پر پھنسے ہوئے تھے۔ اور وہ ان لوگوں کو بچانے میں مصروف ہو گئیں حالانکہ ان کا گھر خود ہی تباہ ہو چکا تھا اور بہت سے پل اور سڑکیں سیلاب کی نذر ہو گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نہرو انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ (این آئی ایم) کے پرنسپل کرنل اجے کوتھیال نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ممتا راوت سے لوگوں کو بچانے کے لیے گزارش کی تھی۔
’ممتا ایک ضعیف خاتون کو لے کر تقریباً تین کلو میٹر تک پہاڑ پر چڑھیں تاکہ انھیں ہیلی کاپٹر سے محفوظ مقام پر پہنچایا جا سکے۔ انھوں نےلوگوں کے دریا پار کرنے کے لیے رسوں کے عارضی پل بنانے میں بھی تعاون کیا۔‘
تعلیم ادھوری چھوڑنے والی ممتا راوت اپنے گھر کی واحد کمانے والی ہیں اور ان کے گھر میں چھ افراد ہیں۔این آئي ایم میں جزوی طور پر تربیت دینے کے علاوہ آمدنی کے لیے وہ ٹریکنگ کرنے والے گروپس کے لیے گائیڈ کا کام بھی کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں بہت زیادہ نہیں کماتی۔ بس اتنا کما لیتی ہوں کہ کسی طرح گزر بسر ہوسکے۔کوہ پیمائی کے موسم میں میں دس ہزار روپے یعنی تقریباً ڈیڑھ سو ڈالر ماہانہ کما لیتی ہوں لیکن باقی مدت میں پانچ ہزار کمانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
’چونکہ ہم پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اس لیے وہاں آمدنی کے زیادہ ذرائع نہیں ہیں۔ سیاحت ہی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے لیکن سنہ 2013 کے سیلاب کے بعد لوگوں کی آمد میں شدید کمی ہوئی ہے۔ امید کہ تعمیر نو کے بعد حالات بدلیں۔‘
اپنے پیشے کے بارے میں ان کی برادری کی جانب سے انھیں بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ ایک خاتون کو ’مردوں والا کام‘ نہیں کرنا چاہیے۔ بہر حال اس سے ان کا ارادہ نہیں ٹوٹ سکا اور اب وہ دوسری لڑکیوں کو گائد بننے کی تربیت دیتی ہیں۔

تربیت حاصل کرنے والی ایک لڑکی سومیلا کہتی ہیں کہ ممتا کی تربیت نے انھیں اترکاشی آنے والے ٹریکنگ گروپ کے لیے گائیڈ کی ملازمت دلائی۔ ’ان کی مدد سے میرے چار افراد پر مبنی کنبے کو بڑی راحت ملی کیونکہ میرے والدین بیمار ہیں اور بھائي بے روزگار ہے۔‘
جیا منجو پونوار بھی ممتا راوت کو ایک ’قابل تقلید شخصیت‘ کے طور پر دیکھتی ہیں۔
انھوں نے بتایا: ’میں نے ماؤنٹینیئرنگ کا بنیادی کورس ممتا کے کہنے پر پورا کیا۔ اب میں ان کے ساتھ ٹریکنگ گروپ میں ہوتی ہوں۔ میں ان سے بہت کچھ سیکھ رہی ہوں اور اس نے مجھ میں اعتماد پیدا کیا ہے۔‘

لیکن ممتا راوت اپنے علاقے میں صرف یہی تبدیلی نہیں لا رہی ہیں وہ اپنے علاقے میں سیاحوں کو لانے کے لیے گاؤں والوں کو وہاں بنیادی سہولتوں کے پیدا کرنے میں تعاون کر رہی ہیں۔ ان کی کوششوں میں روایتی لکڑیوں کے گھر کی تعمیر اور علاقائی خوان کی تیاریاں شامل ہیں۔
ایک عام انڈین خاتون کی طرح ان سے سب سے زیادہ سوال شادی کے بارے میں کیا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے بہت سے رشتے آئے لیکن انھیں اس میں دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ان کے لیے برادری کے کام آنا زیادہ اہم ہے۔

مسکراتے ہوئے انھوں نے کہا: ’میں خوش ہوں کہ جو لوگ مجھے مردوں کا کام کرنے کے لیے تنقید کا نشانہ بناتے تھے وہ آج اترا کھنڈ کے اخباروں میں میری تعریف سے خوش ہیں اور اپنی بیٹیوں کو میری طرح بنانا چاہتے ہیں۔‘







