عمران خان وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے پر بضد

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالناصر خان
- عہدہ, صحافی، لاہور
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعظم نوازشریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’میاں صاحب کہتے ہیں ان کے خلاف کرپشن ثابت ہوگئی تو گھر چلے جائیں گے لیکن میاں صاحب سن لیں وہ گھر نہیں بلکہ جیل جائیں گے۔‘
عمران خان رائیونڈ جانے سے قبل اگلے اتوار کو فیصل آباد میں جلسے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان کے بڑے شہر لاہور کے مال روڈ پر منعقدہ جلسہ سے خطاب میں تحریک انصاف کے سربراہ نے سخت لہجے میں وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کی اور کہا کہ ’شریف فیملی کے رائے ونڈ محل پر 11 ارب روپے خرچ آئے، 2700 سیکیورٹی اہل کار شریف فیملی کی حفاظت پر مامور ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ شہبازشریف کے چھ کیمپ آفسز ہیں جس کا سارا خرچ عوام کے ٹیکس سے جاتا ہے۔
عمران خان نے نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میاں صاحب آپ امیر اور پاکستان غریب ہورہا ہے کیا آپ فیکٹریاں بنانے آئے ہیں یا ملک کی خدمت کے لئے آئے ہیں۔‘ عمران نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں میں 15 لاکھ لوگ بےروز گار ہوئے، لیکن ان کی جماعت برسراقتدار آئی تو اداروں کی نجکاری کی بجائے ان میں سیاسی مداخلت ختم کریں گے، ملکی اثاثے پرائیویٹ ہاتھوں میں نہیں دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عمران خان نے کہا کہ ’پانامہ لیکس میں نام آنے پر وزیراعظم نوازشریف مستعفی ہوں، دوسرے ملکوں میں حکمران عوام کے لیے مثال بنتے ہیں، جس ملک میں ڈاکو حکمران بن جائیں وہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، وزیر اعظم کا نام پاناما لیکس میں آیا، انھیں جواب تو دینا پڑے گا۔ 200 افراد کا نہیں بلکہ سب سے پہلے میاں صاحب کا احتساب ہوگا۔ وزیراعظم کا احتساب ہوا تو بہت جلد پاکستان کی تقدیر بدل جائےگی۔‘
عمران خان نے کہا کہ رائے ونڈ میں وزیراعظم نوازشریف کے گھر کے گھیراؤ سے پہلے فیصل آباد میں اگلے اتوار کو اگلا جلسہ ہوگا۔
تحریک انصاف کے جلسے کی خاص بات اداکارہ وینا ملک کے شوہر اسد خٹک اور قندیل بلوچ کی شرکت بھی تھی۔ اسد خٹک، گلوکار ملکو، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اور سلمان احمد نے پارٹی نغمے بھی گائے جبکہ گلوکار ابرارالحق نے جلسہ کے اختتام پر ماحول کو گرما دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جلسہ میں شریک ہونے والی خواتین کے اس بار بہتر بندوبست کیا گیا تھا خواتین کی بڑی تعدادنے تحریک انصاف کے پرچم کے رنگوں والے کپڑے زیب تن کیے تھے جبکہ بعض نے چہروں پر پارٹی پرچم بھی بنارکھے تھے۔جلسے کے دوران کچھ لوگوں کی جانب سے خواتین کے پنڈال میں گھسنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی اہل کاروں نے ان کی کوشش ناکام بنا دی۔
’شو باز شریف، لاہوری رنگ باز اور اے ٹی ایم‘
پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے پہلے صرف کنایوں اشاروں میں ایک دوسرے تنقید کی جاتی تھی لیکن اب یہ معاملہ اس سے کہیں آگے بڑھ گیا ہے جس کا عملی مظاہرہ آج لاہور میں دیکھنے کو ملا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دن کا آغاز یوم مئی کی ایک تقریب میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کے خطاب سے ہوا جس میں انھوں نے جہانگیر ترین اور علیم خان کو ’مافیا‘ قرار دے دیا، جس کے جواب جہانگیر ترین نے انھیں شہباز شریف کی بجائے ’شوباز شریف‘ کا نام دے دیا۔
پی ٹی آئی کے جلسہ سے قبل مسلم لیگ ن کے وزراء کی پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان کو عمران خان کی ’اے ٹی ایم‘ کہہ کر پکارا۔
جلسے میں عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف سخت لہجہ میں گفتگو کی اور کہا کہ پاناما لیکس میں نام آنے پر جب نواز شریف کے احتساب کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو ان کے گال لال ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کو ’لاہوری رنگ باز‘ کہا۔
عمران خان کا جلسہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری میدان میں کود پڑے اور پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلٰی پرویز خٹک کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے تحریک انصاف کے قائدین کو یہ کہہ دھمکی بھی دی کہ رائے ونڈ کا رخ کرنے والوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔







