’نواز شریف کے کمیشن کو نہیں مانتے، رد کرتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سےگذشتہ روز قوم کے خطاب کے ردعمل میں کہا ہے انھوں نے پاناما کی مشہور لا کمپنی موساک فونسیکا میں ان کے بیٹوں کے نام آنے پر کوئی بات نہیں کی ہے۔
سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جانب سے چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالتی کمیشن کے قیام کا اعلان انصاف اور احتساب کو دفن کرنے کے لیے ہے۔
تحریک انصاف کے چیئر مین نے کہا کہ حکومت نے سنہ 1956 کے ایکٹ کے تحت جو عدالتی کمیشن بنایا ہے اس کی سول کورٹ سے زیادہ کوئی طاقت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت جب چاہے صرف ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے اس عدالتی کمیشن کو ختم کر سکتی ہے۔
عمران خان نے کہا ’یہ کون کا سا کمیشن ہے جسے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے اس لیے ہم اس عدالتی کمیشن کو رد کرتے ہیں اور اسے نہیں مانتے۔‘
عمران خان کے مطابق ’نواز شریف احتساب کے نام پر قوم سے مذاق کر رہے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی کسی طاقتور کا احتساب شروع ہوتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی قانون کو استعمال کر کے احتساب کو ختم کر دیا جاتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ موساک فونسیکا میں نواز شریف کے بچوں کے بینک اکاؤنٹس آئے ہیں جن کے مطابق ان کی اربوں روپے کی جائیداد کا ذکر ہے تاہم انھوں نے اپنی تقریر میں اس حوالے سے کسی بات کا جواب نہیں دیا بلکہ ہم پر حملہ کر دیا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین کے مطابق یہ ایک پرانا وطیرہ ہے کہ بحائے آپ صفائی پیش کریں آپ الٹا دوسروں پر حملہ کر دیں اور کہیں کہ ان کے خلاف کوئی سازش ہوئی ہے۔
عمران خان کا خان تھا کہ نواز شریف کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی ہے اور پاناما پیپرز میں ان کا نام آنے کے بعد اب انھیں صفائی پیش کرنی چاہیے کہ وہ بے قصور ہیں۔
انھوں نے کہا ’عمران خان تیار ہے، آپ جب بھی اس ملک میں احتساب شروع کریں، سب سے پہلے میرا احتساب شروع کریں۔‘
تحریکِ انصاف کے چیئرمین نے مزید کہا کہ انھوں نے سارا پیسہ، ساری جائیداد باہر کمائی ہے۔
عمران خان نے کہا ’میرا سارا پیسہ کرکٹ کھیل کر آیا ہے اور وہ سارا پیسہ پاکستان میں میرے نام ہے، میرے بچوں کے نام نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر میں نے پیسہ چوری نہیں کیا، اگر میں نے ٹیکس نہیں بچانا تو پھر میں سب کچھ اپنے نام کیوں نہ رکھوں۔
تحریک انصاف کے سربراہ کے مطابق ’صاحب آپ عمران خان کی بات نہ کریں ابھی احتساب آپ کا ہونا ہے کیونکہ آپ کا نام آیا ہے۔‘
عمران خان نے کہ میاں صاحب آپ ملک کے وزیر اعظم ہیں لیکن آپ پر ٹیکس چھپانے، منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات ہیں۔
نواز شریف کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویر پر عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے قوم کے ساتھ مذاق کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم جب تک اپنی صفائی پیش نہیں کرتے کسی بھی صورت ملک میں حکومت نہیں کر سکتے کیونکہ آپ حکومت کرنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔







