پاناما لیکس:نواز شریف چیف جسٹس کو خط لکھنے پر تیار

حکومت کافی لیت و لعل کے بعد خط لکھنے کو تیار ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحکومت کافی لیت و لعل کے بعد خط لکھنے کو تیار ہوئی ہے
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی حکومت نے پاناما لیکس میں سامنے آنے والے انکشافات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمشین بنانے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق وزیراعظم نواز شریف جمعہ کی شام کو قوم سے خطاب کریں گے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اسی نشری تقریر میں وہ چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا اعلان کریں گے۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعہ کی صبح خورشید شاہ سے ٹیلی فون پر بات کی۔

اسحاق ڈار نے قائد حزب اختلاف کو آگاہ کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے پر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاناما لیکس پر تحقیقات کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کو عدالتی کمشین بنانے کے لیے خط لکھا جائے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس بارے میں باقاعدہ کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

پاناما لیکس سامنے آنے کے بعد سے اب تک حکومت اس بات پر اصرار کر رہی تھی کہ اس معاملے کی تحقیقات ایک ریٹائرڈ جج سے کرائی جائیں اور اس سلسلے میں ریٹائرڈ جج سرمد جلال عثمانی کا نام بھی سامنے آیا تھا۔

حزب اختلاف کی تمام جماعتیں یہ تحقیقات چیف جسٹس کی سربراہی میں کروانے کا مطالبہ کر رہی تھیں اور انھوں نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں بننے والے کسی بھی کمیشن کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

حکومت پر اپوزیش کی جانب سے بڑھتے ہوئے اس دباؤ کے پس منظر میں پہلےپاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے تمام شعبوں میں احتسابشروع کرنے اور فوج کی طرف سے اس کی بھرپور حمایت کرنے کی بات کر دی اور پھر چھ اعلی فوجی افسران کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

فوج کے ادارے میں بدعنوانی پر برطرفیوں اور ان کی مقامی میڈیا پر تشہیر ایک غیر معمولی اقدام تھا جس سے تمام اداروں میں بلاامتیاز احتساب کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ میں کئی گناد اضافہ ہو گیا۔