’وزیرِاعظم کے نامزد کردہ فرد کی تحقیقات معتبر نہیں ہو سکتیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کے نامزد کردہ فرد کی جانب سے کی گئی پاناما لیکس کی تحقیقات معتبر قرار نہیں دی جا سکتیں اور یہ تحقیقات پارلیمانی فورم پر ہونی چاہییں۔
ادھر وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پورا ملک چاہتا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے کی شفاف تحقیقات ہوں لیکن کچھ سیاسی عناصر اس معاملے کی آڑ میں پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
بدھ کو پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے۔
پی پی پی کے چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے وزیرِ اعظم نواز شریف کے نامزد کردہ کسی ایک فرد کی تحقیقات معتبر نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کے اہلِ خانہ کے نام بھی اس رپورٹ (پاناما پیپرز) میں موجود ہیں۔
بیان میں پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو نے اس معاملے کی تمام سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے پارلیمانی فورم سے تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے ٹرمز آف ریفرنس بھی پارلیمنٹ میں، تمام جماعتوں کی طرف سے بحث و مباحثے کے بعد طے ہونے چاہییں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی آف شور کمپنیز کی ملکیت کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کی اولاد کے نام آنے کے بعد ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکی ہے۔
ادھر بدھ کو نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چودھری نثار کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے حوالے سے جو بھی کمیٹی یا کمیشن بنےگا وہ اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے سے بنے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے آئندہ چند دن میں واضح پیش رفت ہوگی۔
چودھری نثار نے کہا کہ پاناما پیپرز سے متعلق سب سے پہلے ردعمل پاکستان میں آیا اور کمیشن بنانے کا اعلان کیا گیا لیکن کئی سینیئر ججوں نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بچوں پرجو الزامات ہیں ان کا جواب وہی دے سکتے ہیں۔







