سوات، یونیورسٹی پراکٹر کو عہدے سے ہٹانے کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہother
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں سوات یونیورسٹی کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یونیورسٹی کے پراکٹر کی طرف سے اپنے طور پر کیمپس کی حدود میں لڑکے اور لڑکیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی لگانے کے اقدام پر ان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
سوات یونیورسٹی کے ترجمان آفتاب احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ یونیورسٹی کے پراکٹر حضرت بلال نے چند روز پہلے وائس چانسلر کے نوٹس میں لائے بغیر اپنے طور پر ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے تحت کیپمس کی حدود اور اس سے باہر طلبا و طالبات کے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور اس غیر ذمہ دارانہ اقدام پر یونیورسٹی کے پراکٹر کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طرف سے ایک تین رکنی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جو اس معاملے کی مزید تحقیقات کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ حضرت بلال یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں جبکہ پراکٹر کا عہدہ انہیں اضافی طور پر دیا گیا تھا تاہم وہ اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سوات میں خواتین کی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہر سال خواتین کو داخلوں میں ترجیح دی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اعلی تعلیم حاصل کریں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انھوں نے مزید بتایا کہ سوات میں چھ ماہ پہلے آنے والے زلزلے کی وجہ سے سوات یونیورسٹی کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا جس کی وجہ سے یونیورسٹی کو کرائے کی دو عمارتوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جس کیمپس میں اعلامیہ جاری کیا گیا وہاں قریب ہی عام لوگ بھی رہتے ہیں۔ جہاں لوگوں کی طرف سے کچھ شکایات بھی کی گئی تھیں کہ کیمپس کی حدود میں طلبا و طالبات کلاسز سے نکل کر گھروں کے سامنے بیٹھ کر گپیں مارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاید پراکٹر کی طرف سے ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا لیکن اس فیصلے میں انتظامیہ کو لاعلم رکھاگیا تھا۔
خیال رہے کہ پانچ دن قبل سوات یونیورسٹی کے پراکٹر کی طرف سے یونیورسٹی کیمپس کے اندر اور باہر طلبا و طالبات کے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی لگائی گئی تھی جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر پانچ سو سے لے کر پانچ ہزار روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ اس اعلامیہ کو طلبہ اور لوگوں کی طرف سے سماجی رابطے کی مختلف ویب سائیٹس پر شیئر کیا گیا تھا۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اس وقت اس اعلامیہ سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔



