چندہ برائے سڑک

دو دنوں میں وہ ایک لاکھ روپے سے زائد کا چندہ اکھٹا ہو چکا ہے
،تصویر کا کیپشندو دنوں میں وہ ایک لاکھ روپے سے زائد کا چندہ اکھٹا ہو چکا ہے
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, سوات

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں علاقے کے منتخب کونسلرز اور عمائدین نےحکومت سے مایوس ہوکر حاجی بابا روڈ کی تعمیر و مرمت کے لیے چندہ مہم شروع کر رکھی ہے۔

پانڑ ، خواجہ آباد اور شریف آباد کے مقامی لوگوں اور بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونے والے کونسلرز کا کہنا ہے کہ وہ چندے کے ذریعے اکھٹی ہونے والی رقم سے سڑک کی تعمیر کریں گے۔

دو کلومیٹر طویل اس سڑک پرگذشتہ کئ سالوں سے کوئی مرمتی کام نہیں ہوا ہے
،تصویر کا کیپشندو کلومیٹر طویل اس سڑک پرگذشتہ کئ سالوں سے کوئی مرمتی کام نہیں ہوا ہے

اس سلسلے میں شریف آباد میں چندہ کیمپ لگایا ہے دو دنوں میں وہ ایک لاکھ روپے سے زائد کا چندہ اکھٹا کرچکے ہیں اور یہ مہم جاری رکھنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے حکومت میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی علاقے میں سڑک کی تعمیر خیرات کے رقم سے کی جائے گی مقامی لوگوں کے مطابق اگر صورتحال یہی رہی توسڑکوں اور گلی کوچوں کے تعمیر کے لیے ہر علاقے میں لوگ چندہ مانگنے پر مجبور ہوں گے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت تو کشکول توڑنے اور تبدیلی کا وعدہ کر کے بر سر اقتدار آئی تھی لیکن خود کاسہ گدائی توڑنے کے بجائے قوم کو بھی اس راستے پر لگانے کی پالیسی اپنارکھی ہے۔

دو کلومیٹر طویل اس سڑک پرگذشتہ کئ سالوں سے کوئی مرمتی کام نہیں ہوا ہے جس سے آمد ورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس علاقے کے منتخب کونسلر نثار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ روڈ کی تعمیر و مرمت کے سلسلے میں ہم نے کئ بار ایم پی اے فضل حکیم کے ساتھ ملاقاتیں کی لیکن ہمارے ساتھ کیے گئے وعدوں میں ایک بھی وفا نہ ہوا ان کے مطابق ایم پی اے فضل حکیم نے روڈ کے تعمیر و مرمت کے لیے دو لاکھ روپے چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

روڈ کی تعمیر کا سوشل میڈیا پر افتتاح علاقے کے لوگوں کے ساتھ مذاق ہے: کونسلر نثار احمد
،تصویر کا کیپشنروڈ کی تعمیر کا سوشل میڈیا پر افتتاح علاقے کے لوگوں کے ساتھ مذاق ہے: کونسلر نثار احمد

اس حلقے کے ممبر نثار احمد نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اس روڈ کی تمعیر کا افتتاح کئ بار ہوچکا ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہے انھوں نے کہا کہ روڈ کی تعمیر کا سوشل میڈیا پر افتتاح علاقے کے لوگوں کے ساتھ مذاق ہے۔

ایک راہ گیر خاتون سے جب پیدل جانے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ روڈ کی خستہ حالی کی وجہ سے رکشے والے اس طرف نہیں آتے اور اگر آتے بھی ہیں تو وہ پشاور اور مردان کا کرایہ مانگتے ہیں جسکی وجہ سے انھیں مجبوراً پیدل جانا پڑتا ہے۔

ممبر صوبائی اسمبلی فضل حکیم نے بی بی سی کو بتایا کہ روڈ کی تعمیر و مرمت کے لیے 47 کروڑ روپے منظور ہوئے ہیں جس پر عنقریب کام کا آغاز ہوجائے گا۔

سوات کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل کا حل حکومتی ذمہ داری ہے لیکن اگر کام کے بجائے صرف وعدوں پر ہی اکتفا ہو تو مسائل اور بھی گھمبیر ہوجائیں گے اور عوام کا حکومت اور حکومتی نمائندو ں پر سے اعتماد ختم ہو جائےگا۔