سوات: خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ

- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, سوات
خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ ضلعے میں گھریلو جھگڑے، غیرت کے نام پر قتل، جنسی تشدد اور خود کشیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
غیر سرکاری تنظیم ’دی اویکننگ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق سوات میں یکم جنوری 2015 سے تیس نومبر 2015 تک 61 خواتین کو غیرت کے نام اور دیگر وجوہات پر قتل کیاگیا ہے۔
اس کے علاوہ 15 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی جبکہ پانچ خواتین کو اغوا کیاگیا۔ این جی او کی رپورٹ کے مطابق گھریلو تشدد اور دیگر وجوہات پر 168 خواتین نے خود کشیوں کی کوشش کی جبکہ گھریلو تشدد کے 250 واقعات رپورٹ ہوئے۔
تنظیم کے کوارڈینیٹر عرفان حسین بابک نے بی بی سی کو بتایا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن علاقائی روایات اور معاشرے میں بدنامی کے خوف سے لوگ قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے علاقائی جرگوں کے ذریعے معاملات ختم کر دیتے ہیں۔
ان کے مطابق خواتین کی خود کشیوں میں اضافے کی بڑی وجہ فیصلہ سازی میں خواتین کی عدم شمولیت، ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا، غربت، تعلیم کی کمی اور علاقائی روایات کی وجہ سے شادی میں لڑکی کی مرضی کا شامل نہ ہونا ہے۔
ضلع کچہری میں خواتین سے متعلق مقدموں کی تعداد 70 فیصد بتائی جاتی ہے۔
وکیل سہیل سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ کیسز میں اضافے کی بڑی وجہ قانون سے لا علمی ہے اور اس سلسلے میں جتنے بھی قوانین صوبائی یا مرکزی حکومت نے منظور کیے ہیں وہ یہاں لاگو نہیں ہوتے۔

ان کے مطابق عدالتوں میں آنے والے کیسز میں زیادہ تعداد گھریلو تشدد اور وراثت میں حصہ داری سے متعلق ہوتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف تھانوں میں درج ہونے والے مقدمات کی تعداد اس سے کم ہے کیونکہ زیادہ تر کیسز تھانوں کی بجائے علاقائی جرگوں کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ روایات اور خاندان کو بدنامی سے بچنے کے لیے معاملات خفیہ رکھنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
سوات کی خاتون ضلعی کونسلر بیگم شہاب نے بتایا کہ خود کشیوں میں اضافے کی بڑی وجہ مرضی کی شادی کا نہ ہونا بھی ہے جس سے بعد میں یہ مسائل جنم لیتے ہیں جو موت پر ختم ہوتے ہیں۔
گرلز کالج کی ایک طالبہ عاصمہ دلاور نے بی بی سی کو بتایا کہ والدین بیٹا اور بیٹی میں امتیاز کرتے ہیں۔ ’بیٹے کی پسند اور بیٹی کو اپنی مرضی سے بیاہ دیتے ہیں جس سے بیٹیاں احساس محرومی کا شکار ہوتی ہیں اور بعض اوقات یہی محرومی انھیں موت تک لے جاتی ہے۔‘







