باچا خان یونیورسٹی کے طلبا کا مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہEPA
خیبر پختونخوا کے شہر چار سدہ میں قائم باچا خان یونیورسٹی کے طلبا نے یونیورسٹی پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے ساتھیوں کے لیے اسی پیکج کا مطالبہ کیا ہے جو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو دیا گیا ہے۔
آج یونیورسٹی کے سامنے بڑی تعداد میں طلبا نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ ان طلبا کا کہنا تھا کہ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کے ساتھ جو وعدے کیے تھے ان پر عمل درآمد اب تک نہیں ہو سکا۔
باچا خان یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری احتشام اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت یونیورسٹی کے پچاس فیصد طلبا اور طالبات نفسیاتی مریض بن چکے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بڑی تعداد میں طلبا اور طالبات خوف کی وجہ سے یونیورسٹی نہیں آ رہے لیکن نہ تو حکومت اور ناں ہی یونیورسٹی کی جانب سے ان کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں۔
احتشام نے بتایا کہ ان کےساتھ وزیر اعلی پرویز خٹک نے وعدہ کیا تھا کہ باچا خان یونیورسٹی کے ہلاک ہونے والے طلبا کو وہی پیکج دیا جائے گا جو آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے طلبا کے لواحقین کو دیا گیا تھا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
طلبا کا کہنا تھا کہ وہ آرمی پبلک سکول کے خلاف نہیں ہیں لیکن ان کی یونیورسٹی میں بھی نوجوان ہلاک ہوئے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کے لواحقین کے لیے بڑے پیکیکجز اور باچا خان یونیورسٹی کے ہلاک ہونے والے طلبا کے لیے کچھ نہیں اس طرع کا تعصب نہیں ہونا چاہیے۔
مظاہرین نے یونیورسٹی حملے کی جوڈیشل انکوائری اور یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا اور طالبات کی فیس معاف کرنے کے اعلانات پر عمل درآمد کے مطالبات بھی کیے۔
احتجاجی مظاہرہ دوپہر بارہ بجے تک جاری رہا اور اس دوران یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات حکومت تک ضرور پہنچائے جائیں گے اور اس کے لیے طلبا کا ایک وفد یونیورسٹی انتظامیہ کے ہمراہ وزیر اعلی پرویز خٹک سے ملاقات کے لیے جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تب تک وہ یونیورسٹی میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔ طلبا نے بتایا کہ انھوں نے اپنا احتجاج 20 مارچ تک موخر کر دیا ہے جس کے بعد وہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں نے 20 جنوری کی صبح حملہ کیا تھا جس میں اکیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







