پنجاب اسمبلی میں خواتین کے تحفظ کا بل منظور
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے خواتین کو گھریلو تشدد، نفسیاتی اور جذباتی دباؤ، معاشی استحصال اور سائبر کرائمز سے تحفظ دینے کا قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔
اس بل کے ذریعے تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کو تین طرح کا تحفظ دیا جارہا ہے۔
1:پروٹیکشن آرڈر
نئے قانون کی بدولت خواتین ہراساں کرنے والوں یا پھر جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لے سکیں گی۔
پروٹیکشن آرڈر کے ذریعے عدالت ان افراد کو جن سے خواتین کو تشدد کا خطرہ ہو، پابند کرے گی کہ وہ خاتون سے ایک خاص فاصلے پر رہیں۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ عدالت کے پروٹیکشن آرڈر کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی تشدد کرنے والے شخص کو جی پی ایس ٹریکنگ بریسلٹ پہنائے جائیں گے۔
تاہم اس پابندی کا اطلاق شدید خطرہ ثابت ہونے یا سنگین جرم کی صورت میں ہی ہوسکےگا۔ عدالت ثبوت کی بنیاد پر جی پی ایس بریسلیٹ پہنانے کا فیصلہ کرے گی۔ ان کو ٹیمپر نہیں کیا جاسکے گا۔
ٹیمپرنگ کی صورت میں تشدد کے خلاف قائم کیے گئے سینٹرز پر خود بخود اطلاع ہوجائے گی اور ٹیمپرنگ یا بریسلٹ کو اتارنے کے لیے چھ ماہ سے ایک سال تک اضافی سزا دی جائے گی۔
2: ریزیڈینس آرڈر
ریزیڈینس آرڈ کے تحت خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر گھر سے بے دخل نہیں کیا جاسکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر کوئی بھی خاتون جان کے خطرے کے باعث گھر چھوڑنے پر مجبور ہو یا اسے خاندان کے افراد گھر سے نکال دیں تو ایسی صورت میں عدالت خاندان کو پابند کرسکے گی کہ خاتون کی رہائش کا متبادل بندوبست کیا جائے یا اسے دوبارہ گھر میں رکھا جائے۔

3: مانیٹری آرڈر
جبکہ مانیٹری آرڈر کے تحت خواتین تشدد کرنے والے کے خلاف کی گئی قانونی چارہ جوئی پر ہونے والے اخراجات تشدد کرنے والے شخص سے حاصل کرسکیں گی۔
مانیٹری آرڈر کے تحت خواتین اپنی تنخواہ یا اپنی جائیداد سے ہونے والی آمدنی کو اپنے اختیار میں رکھنے اور اپنی مرضی سے خرچ کرنے کے قابل بھی ہوسکیں گی۔
وزیراعلیٰ کے امن وامان سے متعلق خصوصی مانیٹرنگ یونٹ نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین رکن اسمبلی کے ساتھ مل کر یہ بل تیار کیا ہے۔
مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی کا دعویٰ ہے کہ قانون میں پروٹیکشن ریزیڈنس اور مانیٹری آرڈرز کے تحت تحفظ دینے کے لیے ایک پورا نظام بنایا گیا ہے اور کسی بھی عمر کی خاتون کو کسی بھی قسم کے تشدد سے اس بل کے ذریعے تحفظ دیا جاسکے گا۔ اس قانون پر عملدرآمد کانطام بھی بل میں دیا گیا ہے۔
’اس قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ضلع میں وائلنس ایگنسٹ ویمن سینڑز بنائے جارہے ہیں۔ یہ جنوبی ایشیا کے پہلے ایسے سینٹر ہیں جہاں تمام متعلقہ ادارے ایک ہی چھت کے نیچے موجود ہوں گے۔ جیسے پولیس پراسیکیوشن فرائنزک میڈیولیگل ماہر نفسیات اور شیلڑہوم وغیرہ۔‘
اس قانون کے تحت خواتین کے تحفظ کے لیے ضلعی کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ جو تمام سینٹرز میں شکایات کے اندراج کی نگرانی کریں گی اور یقینی بنائیں گی کہ پولیس تمام حقیقی شکایات کے مقدمات درج کرے۔
سلمان صوفی کہتے ہیں ’غلط شکایت ثابت ہونے پر چھ ماہ سے ایک سال تک سزا ہوسکے گی۔ لیکن ہم نے جو سینٹرز اور کمیٹیاں بنا رہے ہیں اس سے غلط شکایتوں کا جلد پتہ لگایا جاسکے گا۔ اور صرف حقیقی شکایتیں ہی سامنے آسکیں گی۔‘
اس سے پہلے پنجاب میں خواتین کو تشدد سے تحفظ دینے کے لیے کوئی ایسا قانون موجود نہیں تھا۔ اس وقت خواتین کے خلاف تشدد پر سزا ئیں سی پی آر سی کے وفاقی قانون کے تحت دی جارہی ہیں۔
یہ قانون گذشتہ برس بھی اسبملی میں پیش کیا گیا تھا تاہم پارلیمٹیرنینز کی جانب سے کئی اعتراضات اٹھائے جانے کے باعث یہ منظور نہیں ہوسکا۔ تاہم جمعرات کو پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کی قانون کی منظوری دی ہے۔







