’کیا اب کرکٹ کھیلنے پر بھی پابندی؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جامعہ کراچی میں خواتین نے بطور احتجاج کرکٹ میچ کھیل کر ایک طلبہ تنظیم کی جانب سے خواتین پر مبینہ تشدد پر آواز اٹھائی جو کہ پاکستانی ٹوئٹر پر ایک بڑا ٹرینڈ بھی ہے۔
جامعہ کی انتظامیہ نے ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی کو بتایا کہ بدھ کی شب آٹھ بجے جامعہ کے پوائنٹس ٹرمینل کے قریب کچھ لڑکے اور لڑکیاں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ کچھ طلباء نےآ کر لڑکوں کو مارنا شروع کر دیا لڑکیوں نے بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی اس کی زد میں آگئیں۔
آج پاکستان میں ٹوئٹر پر سینکڑوں افراد نے اس کے خلاف بطور احتجاج KURejectsIJT# ٹرینڈ کیا اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔
ایک ٹوئٹر ہینڈل EDDIgest@ نے ٹویٹ کی کہ ’ایک بار پھر جامعہ کراچی تشدد کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہے نہ کہ تعلیم کی وجہ سے جو کہ دکھ کی بات ہے۔‘
اخلاق احمد نے ٹویٹ کی کہ ’چونکہ پاکستان نے چند بزدل دہشت گردوں کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ سے ہاتھ دھو لیے ہیں ہم مقامی کرکٹ کو کبھی بھی نہیں کھونے دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
عماد شیخ نے لکھا کہ ’اگر آپ ایک خاتون کو تعلیم دیتے ہیں تو پوری قوم کو تعلیم دیتے ہیں اور اگر ایک خاتون کی توہین کرتے ہیں تو آپ کہاں کے مرد ہیں؟ جامعہ کراچی میں خواتین پر تشدد ظاہر کرتا ہے کہ ہم ایک جمہوری ملک میں نہیں رہتے جہاں خواتین کو مساوی حقوق ملتے ہیں۔‘
پنجاب اسمبلی کی رکن حنا بٹ نے لکھا کہ ’میں جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبا کے ہاتھوں لڑکیوں پر حملے شدید مذمت کرتی ہوں جو کرکٹ کھیل رہی ہوں۔ ان جاہلوں اور مذہبی جنونیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘
اس ساری بحث میں روزنامہ ڈیلی ٹائمز نے اپنے اداریے میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ حالات شرمناک ہیں اور ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یونیورسٹی اور پولیس کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ اس پرتشدد تبلیغیانہ طرز کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے اور خواتین کی پبلک زندگی میں شمولیت کو کچھ نہیں سمجھتے یہاں تک کہ وہ عام سرگرمیوں میں بغیر کسی خوف کے حصہ لے سکیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس ساری بحث میں طلبا تنظیموں کے کردار پر بھی گفتگو جاری ہے جس میں طلح طارق نے لکھا ’طلبا تنظیموں کی سیاست کو باقاعدہ بنانے کی ضرورت ہے اور یہی واحد راستہ ہے اس قوم کو زندہ کرنے کا۔‘
نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق اے پی ایم ایس او کی شعبہ طالبات سے تعلق رکھنے والی وجیہہ رؤف نے وہاں کرکٹ کھیلی اور ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران کوریج کرنے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا مزید کا کہنا تھا کہ جامعہ کے سیکیورٹی کے مشیر کا تعلق اسلامی جمیعت طلباء سے ہے اور اسی وجہ سے وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہے۔
تاہم سیکیورٹی کے مشیر ڈاکٹر زبیر نے اس الزام کو رد کیا ہے۔
ادھر کراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمیعت طلباء کے ناظم قاضی عبدالحسیب نے اس پورے معاملے ہی کو رد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمیعت ہر سال اسپورٹس ڈے مناتی ہے جس میں طالبات بھرپور انداز میں شرکت کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں نہ تو طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر اعتراض ہے اور نہ ہی اس کے کسی کارکن نے کسی پر کوئی تشدد کیا ہے۔
تاہم انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کے پنجابی اسٹوڈنٹ ایسو سی ایشن اور جمیعت کے درمیان کشیدگی تھی اور یہ اسی کا شاخسانہ ہے ۔ ان کے مطابق اے پی ایم ایس او اس معاملے میں بلاوجہ کود پڑی ہے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔
واقعے کے بعد گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد نے اس کا نوٹس لیا۔ جس کے بعد شیخ الجامعہ نے اس واقعے کی انکوئری کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو جمعے تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔







