جامعہ کراچی میں کرکٹ کھیل کر علامتی احتجاج

ابتداء میں صحافیوں کو رینجرز نے روکنے کی کوشش کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنابتداء میں صحافیوں کو رینجرز نے روکنے کی کوشش کی تھی
    • مصنف, حسن کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

جامعہ کراچی میں ایک طلباء تنظیم کی طرف سے جبری طور پر کرکٹ کھیلنے سے روکنے پر طالبات نے پیر کو اجتجاجاً کرکٹ کھیلی جس دوران یونیورسٹی کی انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی ہوئی۔

اس واقع کا یونیورسٹی کے چانسلر گورنر عشرت العباد کی طرف سے نوٹس لیے جانے کے بعد وائس چانسلر نے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دے کر جمعے تک رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ بدھ کی شب جامعہ کراچی میں لڑکے اور لڑکیوں کے مشترکہ کرکٹ کھیلنے کے معاملے پر شروع ہونے والی کشیدگی پیر کو بھی جاری رہی اور اس دوران ایک طلباء تنظیم ’اے پی ایم ایس او‘ کی شعبہ طالبات نے احتجاجاً کرکٹ کھیل کر اس واقعے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔

اس دوران کوریج کے لیے موجود صحافیوں کو جامعہ کراچی کے سکیورٹی عملے کی جانب سے کوریج سے روکنے پر صحافیوں اور انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

ایکسپریس ٹی وی کے رپورٹر مظاہرسعید کے مطابق انھیں یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے زد و کوب کیا گیا اور اس کشمکش میں ان کے کپڑے پھٹ گئے اور موبائل بھی ٹوٹ گیا اور اسی دوران کچھ دیگر صحافیوں کو بھی تشدد کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب جامعہ کی کیمپس سکیورٹی کےمشیر ڈاکٹر محمد زبیر کے مطابق ابتداء میں رینجرز نے میڈیا کو کوریج سے روکا تھا مگر بعد میں رینجرز وہاں سے ہٹ گئی تھی اور اسی دوران کچھ گرما گرمی ہوئی۔

جامعہ کے رجسٹرار معظم علی خان کے مطابق یہ سارا معاملہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور اس کے بعد وائس چانسلر کی جانب سے جو تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے وہ جمعے کو رپورٹ پیش کرے جس کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ بدھ کی رات پیش آنے والے واقعے پر بھی ایک پانچ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے پیر سے اپنا کام شروع کرنا تھا مگر احتجاج کرکے اس میں بھی رخنہ ڈال دیا گیا۔

جامعہ کی انتظامیہ کے مطابق بدھ کی شب آٹھ بجے جامعہ کے پوائنٹس ٹرمینل کے قریب کچھ لڑکے اور لڑکیاں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ کچھ طلباء نےآ کر لڑکوں کو مارنا شروع کر دیا لڑکیوں نے بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی اس کی زد میں آگئیں۔

اس واقعے کے خلاف اے پی ایم ایس او نے احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ طالبات انتظامی بلاک کے سامنے علامتی طور پر کرکٹ کھیلیں گی اور احتجاج بھی کیا جائے گا۔

اے پی ایم ایس او کی شعبہ طالبات سے تعلق رکھنے والی وجیہہ رؤف نے وہاں کرکٹ کھیلی اور ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران کوریج کرنے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اُن کا مزید کا کہنا تھا کہ جامعہ کے سیکیورٹی کے مشیر کا تعلق اسلامی جمعیت طلبا سے ہے اور اسی وجہ سے وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے۔

دوسری جانب اسلامی جمیعت طلبا کے ناظم قاضی عبدالحسیب نے اس پورے معاملے ہی کو رد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمیعت ہر سال سپورٹس ڈے مناتی ہے جس میں طالبات بھرپور انداز میں شرکت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہ تو طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر اعتراض ہے اور نہ ہی اس کے کسی کارکن نے کسی پر کوئی تشدد کیا ہے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ اب تو کراچی یونیورسٹی میں ویلنٹائنز ڈے بھی منایا جاتا ہے مگر وہ کسی کو کچھ نہیں کہتے بلکہ اس کی جگہ اپنا یومِ حیاء مناتے ہیں۔