ایان علی کو یونیورسٹی مدعو کرنے پر طالب علم فارغ

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ماڈل ایان علی کو مدعو کرنے والے طالب علم کو یونیورسٹی سے خارج کرتے ہوئے اسی معاملے میں ایک سابق طالبعلم کے یونیورسٹی میں داخلہ لینے پر پابندی لگا دی ہے۔
یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق طلبا کے خلاف کارروائی انضباطی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی ہے۔
<link type="page"><caption> ’چارگھنٹوں کا سفر چار ماہ پر محیط‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/07/150716_ayan_ali_analysis_zh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ایان علی کا آئینہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/07/150706_ayyan_ali_social_morality_kq.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ایان علی کیس، میڈیا کیا رپورٹ کر رہا ہے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150525_ayyan_ali_case_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
ترجمان کے مطابق ڈپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے طالب علم اریب خان 20 اگست کو جاری کیے گئے اظہارِ وجوہ نوٹس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ اریب کا یہ عمل(ایان علی کو دی گئی دعوت) یونیورسٹی کی ساکھ خراب کرنے کی بھی وجہ بنا، اس لیے انھیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق آئندہ وہ کراچی یونیورسٹی کے کسی بھی شعبے میں داخلے کے بھی اہل نہیں ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اریب کے علاوہ عبداللہ رضوان شیخ نامی جس شخص کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ بھی ڈپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے ہی سابق طالب علم تھے۔
انضباطی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں ان کے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ آئندہ کسی شعبے میں داخلہ بھی نہیں لے سکیں گے۔
منی لانڈرنگ کے معاملے میں ضمانت پر رہائی پانے والی ایان علی نے رواں سال اگست میں کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ پبلک ایڈمنسٹریشن کے طلبا کی ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔
بعض حلقوں کی جانب سے ایان علی کی آمد اور طالب علموں سے خطاب پر اعتراضات سامنے آئے، جس کے بعد انھیں مدعو کرنے والے طالب علم کو اظہارِ وجوہ نوٹس جاری کیے گئے۔
شعبہ پبلک ایڈمسنٹریشن کے چیئرمین ڈاکٹر شبیہ کا دعویٰ تھا کہ اریب خان اور عبداللہ رضوان بغیر اجازت ایان علی کو شعبہ میں لے کر آئے تھے جبکہ طلبا کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ایان کی آمد سے باخبر تھی۔
یاد رہے کہ ماڈل ایان علی کو 14 مارچ کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، کسٹم نے ان سے چھ لاکھ امریکی ڈالر برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ چار ماہ کی حراست کے بعد انھیں 16 جولائی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔







