عزیر بلوچ پر عائد الزامات کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

 رینجرز نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو رواس سال جنوری میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن رینجرز نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو رواس سال جنوری میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا
    • مصنف, نخبت ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر لیاری گینگ وار کے مبینہ سرغنہ عزیر بلوچ پر عائد کیے گئے الزامات کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

اس سسلسلے میں ایک نوٹیفکشن بدھ کو محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

اس نوٹیفکیشن کے مطابق ’انسداد دہشت گردی کی عدالت کے احکامات، سندھ رینجرز کی جانب سے دی گئی درخواست اور تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو عزیر بلوچ کی دہشت گردی کی کارروائیوں میں مبینہ شمولیت کی تحقیقات کرے گی۔

’اس ٹیم کی قیادت ایس ایس پی کراچی کریں گے جو آئی جی سندھ کی جانب سے نامزد کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، ایم آئی، انویسٹی گیشن بیورو کراچی سندھ اور سپیشل برانچ کے افسران بھی اس ٹیم کا حصہ ہوں گے۔‘

نوٹیفیکشن میں مزید کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کو سات دن میں تفتیش مکمل کرنا ہو گی، جس کے بعد دو دن کے اندر وہ اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کو پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان رینجرز سندھ نے ایک مختصر پریس ریلیز میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو رواس سال جنوری میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عزیر بلوچ کو لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار سمجھا جاتا رہا ہے، جن پر لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل اور اقدام قتل سمیت بھتہ خوری کے کئی مقدمات درج ہیں۔

نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کو سات دن میں تفتیش مکمل کرنا ہو گی
،تصویر کا کیپشننوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کو سات دن میں تفتیش مکمل کرنا ہو گی

اس سے پہلے سنہ 2013 میں عزیر بلوچ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے اعلان کے بعد بیرون ملک چلے گئے تھے جس کے بعد سندھ حکومت نے کئی مرتبہ ان کے سر کی قیمت مقرر کی تھی۔

عزیر بلوچ کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے کئی وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

عزیر بلوچ نے لیاری امن کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم بھتہ خوری سمیت کئی جرائیم میں ملوث ہے، جس کے بعد ایم کیو ایم ہی کے مطالبے پر پیپلزپارٹی کی گذشتہ حکومت کے وزیرِ داخلہ نے لیاری امن کمیٹی پر پابندی عائد کر دی تھی۔