نئے لیاری کی دریافت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
چار روزہ لیاری فلم فیسٹیول (ایل ایف ایف) سنیچر کی رات دنیا کے سامنے لیاری کا ایک نیا چہرہ دکھانے اور امید بندھانے پر ختم ہو گیا۔
فیسٹیول کے آخری اور چوتھے روز لیاری اور کراچی کے لیے مقابلے میں شامل فلموں میں سے چار ججوں پر مشتمل پینل نے فیچر اور شارٹ فلموں کے سات سات اور دستاویزی فلموں کے لیے چار چار شعبوں ایوارڈ دیے۔
یہ فلم فیسٹیول نوساچ فلم اکیڈمی، ویمن ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان (ڈبلیو ڈی ایف پی) اور کراچی یوتھ انیشی ایٹو (کے وائی آئی) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔
بدھ 17 ستمبر سے شروع ہونے والے اس میلے میں کل 38 فلمیں دکھائی گئیں۔ جن میں پانچ سے 15 منٹ تک کے مختصر دورانیے کی 19، پانچ سے 15 منٹ تک کے دورانیے 11 دستاویزی اور 45 سے 60 منٹ تک کے دورانیے کی سات فیچر فلمیں دکھائی گئیں۔
ان 37 فلموں کے علاوہ فرحان عالم کی فلم ’کیلینڈر‘ بھی دکھائی گئی لیکن وہ مقابلے میں شامل نہیں تھی۔
فلم فیسٹیول کے چاروں دن تمام فلموں کے لیے ہال پوری طرح بھرا رہا، جب کہ فلم بینوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ تھی۔
یقین سے تو نہیں کہا جاسکتا لیکن ان میں سے اکثر چاروں دن آتے رہے اور فلم بینی سے ان کے لگاؤ کو دیکھ کر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ صرف فلم سازوں سے دوستی، تعلق یا رشتے نبھانے کے لیے ہی آئے ہوں گے۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے نوساچ کے صدر عمران ثاقب اور سیکریٹری اور پروجیکٹ لیڈر عادل حسین بزنجو نے کہا کہ انھیں فیسٹیول کے کامیاب ہونے کا یقین تو تھا لیکن کامیابی کی ایسی توقع نہیں تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ نوساچ کی بنیاد 2010 میں رکھی گئی اور مقصد صرف اتنا تھا کہ معاشرے کی تبدیلی میں کوئی کردار ادا کیا جائے اور لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ لیاری صرف وہ نہیں ہے جو ایک عرصے سے ذرائع ابلاغ میں دکھایا جا رہا ہے۔
عادل بزنجو نے خود بھی فلم سازی کی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ رائٹر، ڈائریکٹر اور فلم ساز بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع میں مشکلات پیش آئیں اور اب تک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا اندازہ اسی سے کر لیں کہ جب ایل ایف ایف کے لیے ہمیں ہال حاصل کرنا تھا تو ہمیں اس بات کی بھی ضمانت دینا پڑی کہ ہم کوئی ایسا کام نہیں کریں گے کہ جس کا تعلق دہشت گردی سے ہو۔
انھوں نے بتایا کہ کل 40 سے زائد فلمیں منتخب کی گئیں اور تمام کی تمام کراچی ہی کے لوگوں کی بنائی ہوئی ہیں لیکن میں ان میں سے اکثر لیاری کے نوجوانوں نے بنائی ہیں۔
عادل بزنجو نے کہا کہ ایل ایف ایف لیاری کے نوجوانوں کی طرف سے صرف لیاری کے لوگوں ہی کے لیے نہیں کراچی کے سب لوگوں کے لیے ایک تحفہ ہے۔
عمران ثاقب کا کہنا تھا کہ لیاری شروع ہی سے پاکستان اور سندھ کی فلم سازی میں نمایاں کرادر ادا کرتا رہا ہے۔ لیاری نے فلمی صنعت کو اداکار بھی دیے ہیں اور تکنیک کار بھی، ہم نے صرف اُس تسلسل کو جوڑا ہے جو ٹوٹ گیا تھا۔
ایک فلم بین نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کبھی فٹ بال، باکسنگ اور شیرو دادل اور اب گینگ وار اور شدت پسندوں کی پناہ گاہ کے طور سامنے آنے والے لیاری کا اُس کے نوجوانوں نے ایک نیا چہرہ دکھایا ہے جو خوشی دیتا ہے اور امید بندھاتا ہے۔‘
عابد عمران ملازمت کے ساتھ ساتھ بی بی اے بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’مجھے اس فیسٹیول سے بڑی خوشی ہوئی ہے۔ اب شاید لوگوں کو یاد آ جائے گا کہ یہ کراچی وہی قدیم ترین علاقہ ہے جس کے پہلے کالج کے پرنسپل ہمارے بڑے شاعر شاعر فیض احمد فیض رہے ہیں۔‘
فیسٹیول کے لیے منتخب کی جانے والی فلموں کے لیے فیچر، دستاویزی اور مختصر دورانیے یعنی شارٹ فلموں پر مشتمل تین کیٹیگریز بنائی گئی تھیں اور فلم سازوں پر زیادہ سے زیادہ سے 35 سال کا ہونے کی پابندی تھی۔







