،تصویر کا کیپشنشمالی نیپال کے 4000 میٹر بلند علاقے مسٹینگ میں ہونے والا تجی فیسٹیول مقامی لوگوں کی جانب سے منعقد کیا جاتا ہے۔ جن میں بڑی تعداد بدھ مت کے ماننے والوں کی ہوتی ہے جنھیں بدھ بھکشو بھی کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن صدیوں پرانے اس میلے کو مقامی زبان میں ’شیطانوں کا شکار‘ بھی کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ فیسٹیول مقامی لوگوں کی ایک روایتی کہانی پر مبنی ہے جس میں بدھ بھکشوؤں کو مسٹینگ کے علاقے کو بچانے کے لیے شیطانوں سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کا خیال ہے کہ شیطانوں کے اس شکار کے بعد علاقے میں قحط سالی اور سرد موسم کا اختتام ہوتا ہے اور خوشحالی آتی ہے۔
،تصویر کا کیپشن فیسٹیول کو روایتی رقص اور ڈھول کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ شیطانوں کا روایتی لباس پہنے فیسٹیول میں شریک لوگوں کو ہتھیار بھی دیے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشننیپال کے اس علاقے میں تبت سے تعلق رکھنے والے لوگ چھ سو سال سے قیام پذیر ہیں۔
،تصویر کا کیپشننیپال میں شامل کیے جانے سے قبل یہ علاقہ مقامی بدھ بھکشوؤں کی مملکت تھی۔
،تصویر کا کیپشنمسٹینگ کے پہاڑوں میں جانے والا راستہ بہت طویل اور مشکل ہے۔ فیسٹول میں شرکت کرنے والے سیاحوں کو تنگ اور خطرناک راستے سے پیدل سفر کر کے آنا ہوتا ہے۔