وینس فلم فیسٹیول: سویڈش فلم کے لیے گولڈن لائن ایوارڈ

عام ڈگر سے ہٹ کر بنائي جانے والی اس فلم کو ناقدین کی جانب سے بہت پذیرائی ملی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعام ڈگر سے ہٹ کر بنائي جانے والی اس فلم کو ناقدین کی جانب سے بہت پذیرائی ملی

اٹلی کے شہر وینس میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں سویڈن کی فلم کو گولڈن لائن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سویڈن کے ہدایت کار روے اینڈرسن کی کامیڈی فم ’اے پیجن سٹ آن اے برانچ رفلیکٹنگ آن ایگزٹینس‘ یعنی کسی شاخ پر بیٹھے ایک کبوتر کا وجود پر غوروفکر نامی فلم کو بہترین فلم قرار دیا گیا۔

عام ڈگر سے ہٹ کر بنائي جانے والی اس فلم کو ناقدین کی جانب سے بہت پذیرائی ملی۔

یہ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اینڈرسن نے سامعین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انھیں اس فلم کی ترغیب اطالوی ہدایت کار وٹوری دی سیکا کی سنہ 1948 کی فلم بائیسکل تھیفز (سائیکل چور) سے ملی۔

وینس فلم فیسٹیول میں فلم ’ دا لک آف سائلنس‘ کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ اسے یہ ایوارڈ ضرور ملے گا مگر اسے گرینڈ جیوری کے انعام سے نوازا گیا۔

فلم ’ہنگری ہارٹز‘ کو بہترین اداکار اور اداکارہ کے ایوارڈز ملے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنفلم ’ہنگری ہارٹز‘ کو بہترین اداکار اور اداکارہ کے ایوارڈز ملے

وینس فلم فیسٹیول میں امریکی اداکار ایڈم ڈرائیور کو سیویریو کوسٹانزو کی فلم ’ہنگری ہارٹز‘ میں ایک ایسے باپ کا کردار نبھانے کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا جو اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے سرگرداں رہتا ہے۔

بہترین اداکارہ کا ایوارڈ اطالوی اداکارہ البا روہراشر کو اسی فلم کے لیے دیا گیا۔