لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ تین ماہ کے لیے رینجرز کے حوالے

،تصویر کا ذریعہRangers
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے منتظم جج نے کراچی لیاری گینگ وار کے مبینہ سرغنہ عذیر بلوچ کو 90 روز کے لیے رینجرز کی تحویل میں دے دیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان رینجرز سندھ نے ایک مختصر پریس ریلیز میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔
رینجرز نے سنیچر کی شام عزیر بلوچ کو انتہائی سخت سکیورٹی میں چہرے پر کپڑا ڈال کر سندھ ہائی کورٹ میں واقع انسداد ِ دہشتگردی کے منتظم جج کے روبرو پیش کرکے انہیں 90 روز کے لیے تحویل میں لینے کی استدعا کی جو عدالت نے منظور کرلی۔
عدالت نے رینجرز کی درخواست پر عزیر بلوچ سے جے آئی ٹی رپورٹ مرتب کرنے کی بھی اجازت طلب کی جو دے دی گئی۔
یاد رہے کہ رینجرز کو کراچی میں خصوصی اختیارات دیےگئے تھے جس کے تحت وہ کسی بھی شخص کو نوے روز کے لیے اپنی تحویل میں رکھ کر تفتیش کرسکتے ہیں۔
سندھ رینجرز کی جانب سے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے ’ پاکستان رینجرز سندھ نے گذشتہ رات ایک ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران کراچی کے مضافات سے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کو کراچی میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کرلیا، اسلحہ برآمد۔‘
عزیر بلوچ کو لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار سمجھا جاتا رہا ہے جن پر لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل اور اقدام قتل سمیت بھتہ خوری کے کئی مقدمات درج ہیں۔
رینجرز کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں نہ تو گرفتاری کا مقام درج ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ وہ کب پاکستان ۤآئے یا لائے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے سنہ 2013 میں عزیر بلوچ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے اعلان کے بعد بیرون ملک چلے گئے تھے جس کے بعد سندھ حکومت نے کئی مرتبہ ان کے سر کی قیمت مقرر کی تھی۔

عزیر بلوچ کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے کئی وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
اس سے پہلے اطلاعات کے مطابق عزیر بلوچ کو جعلی دستاویزات پر دبئی جاتے ہوئے انٹر پول نے سنہ 2014 میں گرفتار کیا تھا۔
عزیربلوچ کو پاکستان کی تحویل میں لینے کی لیے سندھ پولیس کے ایس ایس پی انویسٹی گیشن نوید خواجہ کی سربراہی میں ایس ایس پی سی آئی ڈی عثمان باجوہ اور ڈی ایس پی کھارادر زاہد حسین پر مشتمل ٹیم دبئی گئی تھی، تاہم وہ ٹیم ناکام رہی تھی۔
اب انتہائی غیر یقینی حالات میں عزیر بلوچ کی گرفتاری سامنے لائی گئی ہے۔
عزیر بلوچ نے لیاری امن کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم بھتہ خوری سمیت کئی جرائیم میں ملوث ہے جس کے بعد ایم کیو ایم ہی کے مطالبے پر پیپلزپارٹی کی گذشتہ حکومت کے وزیرِ داخلہ نے لیاری امن کمیٹی پر پابندی عائد کردی تھی۔
دوسری جانب صوبہ سندھ کے سینئیر وزیر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ انھیں عزیر بلوچ کے پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات کا علم نہیں اور نہ ہی ان کی جماعت کو اس سے کوئی پریشانی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر عزیر بلوچ مقدمات میں مطلوب تھا تو اسے گرفتار کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری تھی۔







